براہین احمدیہ حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 849

براہین احمدیہ حصہ دوم — Page 140

روحانی خزائن جلد ۱ ۱۳۸ براہین احمدیہ حصہ سوم نَعْبُدُ ۔ مسلمانوں پر جن امور کا اپنی اصلاح حال کے لئے اپنی ہمت اور کوشش سے انجام دینا لازم ہے وہ انہیں فکر اور غور کے وقت آپ ہی معلوم ہو جائیں گے ۔ حاجت بیان و تشریح نہیں ۔ مگر اس جگہ ان امروں میں سے یہ امر قابل تذکرہ ہے جس پر گورنمنٹ انگلشیہ کی عنایات اور تو جہات موقوف ہیں کہ گورنمنٹ ممدوحہ کے دل پر اچھی طرح یہ امر مرکوز کرنا چاہئے کہ مسلمانان ہند ایک وفادار رعیت ہے۔ کیونکہ بعض نا واقف انگریزوں نے خصوصاً ڈاکٹر ہنٹر صاحب نے کہ جو کمیشن تعلیم کے اب پریسیڈنٹ ہیں اپنی ایک مشہور تصنیف میں اس دعوٹی پر بہت اصرار کیا ہے کہ مسلمان لوگ سرکار انگریزی کے ولی خیر خواہ نہیں ہیں اور انگریزوں سے جہاد کرنا فرض سمجھتے ہیں ۔ گو یہ خیال ڈاکٹر صاحب کا شریعت اسلام پر نظر کرنے کے بعد ہر یک شخص پر محض بے اصل اور خلاف واقعہ ثابت ہوگا۔ لیکن افسوس کہ بعض کو ہستانی اور بے تمیز سفہاء کی نالائق حرکتیں اس خیال کی تائید کرتی ہیں ۔ اور شاید انہیں اتفاقی مشاہدات سے ڈاکٹر صاحب موصوف کا وہم بھی مستحکم ہو گیا ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی جاہل لوگوں کی طرف سے اس قسم کی حرکات صادر ہوتی رہتی ہیں لیکن محقق پر یہ امر پوشیدہ نہیں رہ سکتا کہ اس قسم کے لوگ اسلامی تدین سے دور و مہجور ہیں اور ایسے ہی مسلمان ہیں جیسے مکلین عیسائی تھا۔ پس ظاہر ہے کہ ان کی یہ ذاتی حرکات ہیں نہ شرعی پابندی ہے ۔ اور ان کے مقابل پر ان ہزار ہا مسلمانوں کو دیکھنا چاہئے کہ جو ہمیشہ جان نثاری سے خیر خواہی دولت انگلشیہ کی کرتے رہے ہیں اور کرتے ہیں۔ ۱۸۵۷ء میں جو کچھ فساد ہوا اس میں بجز جہلاء اور بد چلن لوگوں کے اور کوئی شائستہ اور نیک بخت مسلمان جو با علم اور با تمیز تھا ہر گز مفسدہ میں شامل نہیں ہوا۔ بلکہ پنجاب میں بھی غریب غریب مسلمانوں نے سرکار انگریزی کو اپنی طاقت سے زیادہ مدد دی۔ چنانچہ ہمارے والد صاحب مرحوم نے بھی با وصف کم استطاعتی کے اپنے اخلاص اور جوش خیر خواہی سے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس