برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 44 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 44

روحانی خزائن جلد ۶ ۴۲ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا حجۃ الاسلام کوئی اُس پاک سے جو دل لگاوے کرے پاک آپ کو تب اُس کو پاوے یہ تو ہر ایک قوم کا دعوی ہے کہ بہتیرے ہم میں ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہیں مگر ثبوت طلب یہ بات ہے کہ خدا تعالیٰ بھی اُن سے محبت رکھتا ہے یا نہیں ۔ اور خدا تعالیٰ کی محبت یہ ہے کہ پہلے تو اُن کے دلوں پر سے پردہ اُٹھا دے جس پروہ کی وجہ سے اچھی طرح انسان خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں رکھتا اور ایک دھندلی سی اور تاریک معرفت کے ساتھ اس کے وجود کا قائل ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات امتحان کے وقت اس کے وجود سے ہی انکار کر بیٹھتا ہے اور یہ پردہ اُٹھایا جانا بجز مکالمہ الہیہ کے اور کسی صورت سے میسر نہیں آسکتا پس انسان حقیقی معرفت کے چشمہ میں اس دن غوطہ مارتا ہے جس دن خدا تعالیٰ اس کو مخاطب کر کے انا الموجود کی اس کو آپ بشارت دیتا ہے۔ تب انسان کی معرفت صرف اپنے قیاسی ڈھکوسلے یا محض منقولی خیالات تک محدود نہیں رہتی بلکہ خدا تعالیٰ سے ایسا قریب ہو جاتا ہے کہ گویا اس کو دیکھتا ہے اور یہ بیچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ پر کامل ایمان اسی دن انسان کو نصیب ہوتا ہے کہ جب اللہ جل شانہ اپنے وجود سے آپ خبر دیتا ہے۔ اور پھر دوسری علامت خدا تعالیٰ کی محبت کی یہ ہے کہ اپنے پیارے بندوں کو صرف اپنے وجود کی خبر ہی نہیں دیتا بلکہ اپنی رحمت اور فضل کے آثار بھی خاص طور پر اُن پر ظاہر کرتا ہے اور وہ اس طرح پر کہ اُن کی دعائیں جو ظاہری امیدوں سے زیادہ ہوں قبول فرما کر اپنے الہام اور کلام کے ذریعہ سے انکو اطلاع دے دیتا ہے تب اُن کے دل تسلی پکڑ جاتے ہیں کہ یہ ہمارا قادر خدا ہے جو ہماری دعائیں سنتا اور ہم کو اطلاع دیتا اور مشکلات سے ہمیں نجات بخشتا ہے۔ اسی روز سے نجات کا مسئلہ بھی سمجھ آتا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی پتہ لگتا ہے اگر چہ جگانے اور متنبہ کرنے کے لئے کبھی کبھی غیروں کوبھی سچی خواب آسکتی ہے