برکاتُ الدُّعا — Page 36
روحانی خزائن جلد ۶ ۳۶ بركات الدعاء میں پختہ اور حتمی وعدہ کر لیا ہے کہ ضرور وہ اس قدر مدد دینگے اگر ایسا خط * کسی صاحب کی طرف سے مجھ کو پہنچا تو میں اُس کے لئے دعا کروں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ بشر طیکہ تقدیر مبرم نہ ہو ضرور خدا تعالیٰ میری دعا سنے گا اور مجھ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دے گا ۔ اس بات سے نومیدمت ہو کہ ہمارے مقاصد بہت پیچیدہ ہیں کیونکہ خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے بشرطیکہ ارادہ از لی اُس کے مخالف نہ ہو۔ اور اگر ایسے صاحبوں کی بہت سی درخواستیں آئیں تو صرف اُن کو اطلاع دی جائے گی جن کے کشود کار کی نسبت از جانب حضرت عز وجل خوشخبری ملے گی ۔ اور یہ امور منکرین کے لئے نشان بھی ہوں گے اور شاید یہ نشان اس قدر ہو جائیں کہ دریا کی طرح بنے لگیں۔ بالآخر میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصیحنا کہتا ہوں کہ اسلام کے لئے جاگو کہ اسلام سخت فتنہ میں پڑا ہے اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اسی لئے آیا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے علم قرآن بخشا ہے اور حقائق معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کئے ہیں سو میری طرف آؤ تا اس نعمت سے تم بھی حصہ پاؤ۔ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں کیا ضرور نہ تھا کہ ایسی عظیم الفتن صدی کے سر پر جس کی کھلی کھلی آفات ہیں ایک مجدد کھلے کھلے دعوی کے ساتھ آتا سو عنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کرو گے ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اُسوقت کے علماء کی نا سمجھی اُس کی سد راہ ہوئی آخر جب وہ پہچانا گیا تو اپنے کاموں سے پہچانا گیا کہ تلخ درخت شیریں پھل نہیں لاسکتا اور خدا غیر کو وہ برکتیں نہیں دیتا جو خاصوں کو دی جاتی ہیں۔ اے لوگو! اسلام نہایت ضعیف ہو گیا ہے اور اعداء دین کا چاروں طرف سے محاصرہ ہے اور تین ہزار سے زیادہ مجموعہ اعتراضات کا ہو گیا ہے ایسے وقت میں ہمدردی ی چاہیے کہ خط نہایت احتیاط سے بذریعہ رجسٹری سر بمہر آوے اور اس راز کو قبل از وقت فاش نہ کیا جاوے اور اس جگہ بھی پوری امانت کے ساتھ وہ راز مخفی رکھا جائے گا اور اگر بجائے خط کوئی معتبر کسی امیر کا آوے تو یہ امر اور بھی زیادہ مؤثر ہوگا۔ منہ