برکاتُ الدُّعا

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 502

برکاتُ الدُّعا — Page 27

روحانی خزائن جلد ۶ ۲۷ بركات الدعاء اس پر قیاس نہیں کرتے نہیں سمجھتے کہ وہ خدا جس نے ہمارے نظام جسمانی کو اس طرح بنایا کہ آسمان سے ظاہری روشنی ہمارے لئے اترتی ہے اور حقیقی مؤثر آسمانی وسائط کے ذریعہ سے ہمارے جسمانی قوی پر اپنا فیض نازل کرتا ہے۔ اور بغیر واسطہ ململ کے کوئی فیض نازل کرنا اس کی عادت ہی نہیں تو پھر کیونکر وہ خدا ہمارے روحانی نظام میں اس سلسلہ وسائط سے بالکل ہم کو منقطع کر دیوے۔ کیا جسمانی طور سے ہم اس سلسلہ سے منقطع ہیں یا در حقیقت ایک سلسلہ وسائط میں بندھے ہوئے ہیں جو علت العلل سے شروع ہو کر ہم تک پہنچتا ہے۔ اس بحث پر غور کرنے کے لئے ہماری کتاب توضیح مرام اور آئینہ کمالات اسلام دیکھنی چاہیے خاص کر فرشتوں کی (۲۲) ضرورت میں جس قدر مبسوط بحث آئینہ کمالات اسلام میں ہے اس کی نظیر کسی دوسری کتاب میں نہیں پاؤ گے۔ اور سید صاحب کی خداشناسی کا اندازہ معلوم کرنے کے لئے یہ ان کے اقوال کافی ہیں کہ وہ مخلوقات کو مقدر حقیقی کے تصرفوں اور حکومتوں سے بے نیاز کر بیٹھے ہیں۔ نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کی خدائی اس کی قدرت کاملہ سے وابستہ ہے۔ اور قدرت اسی کا نام ہے کہ اُس کے تصرفات اُس کی مخلوقات پر ہر آن غیر محدود ہوں۔ بلاشبہ یہ بیچ ہے کہ اگر اس مخلوقات کو اس نے پیدا کیا ہے تو اپنی غیر محدود ذات کی طرح غیر محدود تصرفات کی گنجائش بھی رکھ لی ہوگی تا کسی درجہ پر اس کی خدائی کا قتل لازم نہ آوے اور اگر نعوذ باللہ آر یہ ہندوؤں کا قول صحیح ہے (۲۳) لا حاشیه۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس بات کے ماننے سے کہ خدا تعالیٰ کی غیر متناہی حکمت استحالات غیر متناہیہ پر قادر ہے۔ حقائق اشیاء سے امان اٹھ جاتا ہے ۔ مثلاً اگر خدا تعالی اس بات پر قادر سمجھا جائے کہ پانی کی صورت نوعیہ کو سلب کر کے ہوا کی صورت نوعیہ اس جگہ رکھ دے یا ہوا کی صورت نوعیہ کو سلب کر کے آگ کی صورت نوعیہ اس کی قائم مقام کر دے یا آگ کی صورت نوعیہ کو سلب کر کے ان مخفی اسباب سے جو اس کے علم میں ہیں پانی کی صورت نوعیہ میں لے آوے یا مٹی کو کسی زمین کی تہ میں تصرفات لطیفہ سے سونا بنا دے یا سونے کومٹی بنا دے تو اس سے امان اٹھ جائے گا اور علوم و فنون ضائع ہو جائیں گے ۔ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال سراسر فاسد ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ