برکاتُ الدُّعا — Page 11
روحانی خزائن جلد ۶ 11 بركات الدعاء عجیب ماجرا گز را کہ لاکھوں مُردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے ۔ اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے ۔ اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے۔ اور دنیا میں یکدفعہ ایک ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا ۔ اور نہ کسی کان نے سنا ۔ کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا؟ وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچا دیا۔ اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اُس اُمی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں ۔ اللهم صل و سلم و بارک علیه و آله بعدد همه و غمه وحزنه لهذه الامة و انزل عليه انوار رحمتک الی الابد ۔ اور میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے ۔ بلکہ اسباب طبعیہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التا خیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔ اور اگر یہ شبہ ہو کہ بعض دعا ئیں خطا جاتی ہیں اور اُن کا کچھ اثر معلوم نہیں ہوتا تو میں کہتا ہوں کہ یہی حال دواؤں کا بھی ہے ۔ کیا دواؤں نے موت کا دروازہ بند کر دیا ہے؟ یا اُن کا خطا جانا غیر ممکن ہے؟ مگر کیا با وجود اس بات کے کوئی اُن کی تاثیر سے انکار کر سکتا ہے؟ یہ سچ ہے کہ ہر ایک امر پر تقدیر محیط ہو رہی ہے ۔ مگر تقدیر نے علوم کو ضائع اور بے حرمت نہیں کیا اور نہ اسباب کو بے اعتبار کر کے دکھلایا ۔ بلکہ اگر غور کر کے دیکھو تو یہ جسمانی اور روحانی اسباب بھی تقدیر سے باہر نہیں ہیں ۔ مثلاً اگر ایک بیمار کی تقدیر نیک ہو تو اسباب علاج پورے طور میسر آجاتے ہیں اور جسم کی حالت بھی ایسے درجہ پر ہوتی ہے کہ وہ ان سے نفع اٹھانے کے لئے مستعد ہوتا ہے ۔ تب دوا نشا نہ کی طرح جا کر اثر کرتی ہے۔ یہی قاعدہ دعا کا بھی ہے۔ یعنی دعا کے لئے بھی تمام اسباب و شرائط