برکاتُ الدُّعا — Page 56
روحانی خزائن جلد ۶ ۵۴ حجة الاسلام طرف سے مجاز ہوگا کہ عام طور پر اخباروں کے ذریعہ سے یا اپنے رسائل مطبوعہ میں اسکو شائع کرے فقط یہ تحریر آپ کی طرف سے بقید نام و مذہب و ولدیت وسکونت ہوا اور فریقین کے پچاس پچاس معزز اور معتبر گواہوں کی شہادت اُس پر ثبت ہو تب تین اخباروں میں اس کو آپ شائع کرا دیں۔ جبکہ آپ کا منشاء اظہار حق ہے اور یہ معیار آپ کے اور ہمارے مذہب کے موافق ہے تو اب برائے خدا اس کے قبول کرنے میں توقف نہ کریں اب بہر حال وہ وقت آگیا ہے کہ خدا تعالی نے مذہب کے انوار اور برکات ظاہر کرے اور دنیا کو ایک ہی مذہب پر کر د یوے سواگر آپ دل کو قومی کر کے سب سے پہلے اس راہ میں قدم ماریں اور پھر اپنے عہد کو بھی صدق اور جوانمردی کے ساتھ پورا کریں تو خدا تعالیٰ کے نزدیک صادق ٹھہریں گے اور آپ کی راستبازی کا یہ ہمیشہ کے لئے ایک نشان رہے گا۔ اور اگر آپ یہ فرما دیں کہ ہم تو یہ سب باتیں کر گزریں گے اور کسی نشان کے دیکھنے کے بعد دین اسلام قبول کر لیں گے یا دوسری شرائط متذکرہ بالا بجالائیں گے اور یہ عہد پہلے ہی سے تین اخباروں میں چھوا بھی دیں گے لیکن اگر تم ہی جھوٹے نکلے اور کوئی نشان دکھلا نہ سکے تو تمہیں کیا سزا ہوگی تو میں اس کے جواب میں حسب منشاء توریت سزائے موت اپنے لئے قبول کرتا ہوں اور اگر یہ خلاف قانون ہو تو کل جائدادا اپنی آپ کو دوں گا۔ جس طرح چاہیں پہلے مجھ سے تسلی کرا لیں ۔ قولہ ۔ لیکن یہ جناب کو یادر ہے کہ معجزہ ہم اُسی کو جانیں گے جو ساتھ تـــحــدی مدعی معجزہ کے بظہور آوے اور کہ مصدق کسی امر ممکن کا ہو۔ اقول ۔ اس سے مجھے اتفاق ہے اور تحدی اسی بات کا نام ہے کہ مثلاً ایک شخص منجانب اللہ ہونے کا دعوی کر کے اپنے دعوے کی تصدیق کے لئے کوئی ایسی پیشگوئی کرے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہو اور وہ پیشگوئی کچی نکلے تو وہ حسب منشاء