ایّام الصّلح — Page 365
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۶۵ امام الصلح ہمارے لئے سراسر رحمت الہی ہے کیونکہ بہت سے دینی اور دنیوی مشکلات سے اسی گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم نے نجات پائی اس گورنمنٹ کے آنے سے ہماری مصیبتیں راحتوں کے ساتھ بدل گئیں اور ہمارے دُکھ آرام کے ساتھ متبدل ہو گئے اور ہماری اسیری کی حالت آزادی (۱۳۴ کی طرف منتقل ہو گئی۔ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے زمانہ میں امن کے ساتھ زندگی بسر کرنے لگے اور ہمیں دینی ترقی کی نسبت بھی اس گورنمنٹ سے وہ فوائد حاصل ہوئے کہ ہم اپنے فرائض آزادی سے ادا کرنے لگے اور جو دینی کتابیں ہمارے باپ دادوں کی نظر سے پوشیدہ رہتی تھیں وہ ہم نے دیکھیں۔ ہمیں اس گورنمنٹ کے وقت میں کوئی روکتا نہیں کہ ہم پادریوں کا جواب دیں۔ مگر سکھوں کے وقت میں قطع نظر اس سے کہ سکھ مذہب پر حملہ کرنے کے لئے ہمیں اجازت ہوتی ہم اپنے دین کے شعار ظاہر کرنے سے بھی روکے گئے تھے۔ نماز جو سب سے پہلا مسلمان کے لئے حکم ہے اُس میں بھی ہمیں یہ مصیبتیں پیش آتی تھیں کہ ہمارے اس ملک کے مسلمانوں کی مجال نہ تھی کہ اپنی مساجد میں پوری آزادی سے بانگ نماز دیں حالانکہ با نگ دینے میں سکھوں کا کچھ بھی حرج نہ تھا مضمون بانگ تو یہی تھا کہ خدا واحد لاشریک ہے اُس کی عبادت کی طرف دوڑو تا نجات حاصل کرو۔ مگر سکھوں پر اس قدر اسلامی اعلان بھی گراں تھا۔ اور اب ہم انگریزی عہد میں یہاں تک دینی امور میں آزادی دیئے گئے ہیں کہ جس طرح پادری صاحبان اپنے مذہب کے لئے دعوت کرتے اور رسائل شائع کرتے ہیں یہی حق ہمیں حاصل ہے کیا کوئی ثابت کر سکتا ہے کہ جیسا کہ اب ہم عیسائی مذہب کا کمال آزادگی سے رڈ لکھتے اور شائع کرتے ہیں ایسا اختیار کبھی سکھوں کے وقت میں بھی ہمیں ہوا تھا کہ ہم اُن کے مذہب پر کچھ لکھ سکتے ؟ بلکہ اپنے فرائض ادا کر نے بھی محال ہو گئے تھے۔ اب انصافا کہو کہ سلطنت انگریزی ہمارے لئے خدا تعالی کی بزرگ نعمت ہے یا نہیں جس کے آنے سے ہم اپنی دعوت پر ایسے قادر ہو گئے کہ سلطان روم کے ملک میں بھی ایسے قادر نہیں ہو سکتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ یعنی ہر ایک نعمت جو الضحى: ۱۲