ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 550

ایّام الصّلح — Page 338

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۳۸ امام الصلح ہو جاتا ہے اور اس سلسلہ کو قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک بیان فرمایا گیا ہے۔ جیسا کہ مثلاً یہی آیت انَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ صاف بتلارہی ہے کہ توابین سے مراد وہ لوگ ہیں جو باطنی پاکیزگی کے لئے کوشش کرتے ہیں اور متطهرین سے وہ لوگ مراد 11 ہیں جو ظاہری اور جسمانی پاکیزگی کے لئے جد و جہد کرتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دوسری جگہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا یعنی پاک چیزیں کھاؤ اور پاک عمل کرو۔ اس آیت میں حکم جسمانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے كُلُوا مِنَ الطَّيِّبت کا ارشاد ہے۔ اور دوسرا حکم روحانی صلاحیت کے انتظام کے لئے ہے جس کے لئے وَاعْمَلُوا صَالِحًا کا ارشاد ہے اور ان دونوں کے مقابلہ سے ہمیں یہ دلیل ملتی ہے کہ بدکاروں کے لئے عالم آخرت کی سزا ضروری ہے۔ کیونکہ جب کہ ہم دنیا میں جسمانی پاکیزگی کے قواعد کو ترک کر کے فی الفور کسی بلا میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔ اس لئے یہ امر بھی یقینی ہے کہ اگر ہم روحانی پاکیزگی کے اصول کو ترک کریں گے تو اسی طرح موت کے بعد بھی کوئی عذاب مؤلم ضرور ہم پر وارد ہوگا۔ جو دوباء کی طرح ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہو گا۔ چنانچہ یہی طاعون اس بات کی گواہ ہے کہ جن جن شہروں اور گھروں میں جسمانی پاکیزگی کی ایسی رعایت نہیں کی گئی جیسی کہ چاہیے تھی آخر وبا نے اُن کو پکڑ لیا۔ اگر چہ یہ عفونتی اجرام کم و بیش ہر وقت موجود تھے لیکن وہ اندازه غلیان سمیت کا پہلے دنوں میں اکٹھا نہیں تھا۔ اور بعد میں اور اسباب کے ذریعہ سے پیدا ہو گیا۔ یہ کس قدر مشکل بات ہے کہ جب کہ ہم جسمانی ناپاکی اور عفونت مہلکہ کا کوئی اندازہ قائم نہیں کر سکتے جب تک وہ خود ہم پر وارد نہ ہو جائے پس کیونکر روحانی سمیت کا ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کب اور کس وقت ہمیں ہلاک کر سکتی ہے۔ لہذا ہمیں لازم ہے کہ لا پروائی اور غفلت سے نوٹ ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کفارہ کچھ چیز نہیں بلکہ جیسا کہ ہم اپنے جسمانی بد طریقوں سے وہا کو اپنے پر لے آتے ہیں اور پھر حفظ صحت کے قواعد کی پابندی سے اُس سے نجات پاتے ہیں۔ یہی قانون قدرت ہمارے رُوحانی عذاب اور نجات سے وابستہ ہے۔ منہ البقرة :٢٢٣ المؤمنون : ۵۲