ایّام الصّلح — Page 254
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵۴ اتمام اصلح بھی اشارہ ہے کہ تم یہودیوں کے خُلق اور خو سے باز رہو اور اگر کوئی مامور من اللہ تم میں پیدا ہو تو یہودیوں کی طرح اُس کی ایذا اور توہین اور تکفیر میں جلدی نہ کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ تم بچے کو جھوٹا ٹھہرا کر اور پھر طرح طرح کے دُکھ اس کو دے کر اور بد زبانی سے اس کی آبروریزی کر کے یہودیوں کی طرح مورد غضب الہی ہو جاؤ لیکن افسوس کہ اس امت کے لوگ بھی ہمیشہ ٹھوکر کھاتے رہے اور انہوں نے بدقسمت یہودیوں کے قصوں سے کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ یہ کیسی عبرت پکڑنے کی بات تھی کہ یہودیوں کو ایلیا نبی کے واپس آنے کا وعدہ دیا گیا تھا اور لکھا گیا تھا کہ جب تک ایلیا نہ آوے مسیح نہیں آئے گا لیکن یہود نے کتب مقدسہ کے نصوص کے ظاہر معنے پر زور دے کر یہ عقیدہ اجماعی قائم کیا کہ درحقیقت ایلیا نبی کا ہی دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے۔ اسی عقیدہ کے رُو سے وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو قبول نہ کر سکے اور یہ حجت پیش کی کہ ایلیا اب تک وعدہ کے موافق دوبارہ دنیا میں نہیں آیا پھر مسیح کیسے آگیا۔ اس ظاہر پرستی سے وہ بڑی مصیبت میں پڑے اور در حقیقت ان کی تمام بدبختی کی یہی جڑ تھی کہ انہوں نے (۲۶) کتاب مقدس کے ایک استعارہ کو حقیقت پر حمل کیا اور اُن کے تمام علماء کا اس پر اتفاق ہو گیا کہ صحیح نبی اللہ سے پہلے ایلیا کا دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے اور اس تاویل پر انہوں نے ٹھٹھا کیا کہ ایلیا سے مراد یوحنا یعنی یچی نبی ہے جو اپنے اندر ایلیا کی خو اور طبیعت رکھتا ہے۔ اور کہا کہ اگر یہ مطلب تھا کہ ایلیا نبی دنیا میں واپس نہیں آئے گا بلکہ اس کا مثیل آئے گا تو خدا نے پیشگوئی میں یوں کیوں نہ فرمایا کہ مسیح سے پہلے ایلیا کا مثیل آئے گا۔ غرض اس طرح پر اُن کے دل سخت ہو گئے اور ایک راستباز کو کذاب اور کافر اور ملحد قرار دیا۔ اسی شامت سے وہ غضب الہی کے مورد ہو کر سخت سخت عذابوں میں مبتلا ہوئے ۔ اسلام میں بھی یہودی صفت لوگوں نے یہی طریق اختیار کیا اور اپنی غلط فہمی پر اصرار کر کے ہر ایک زمانہ میں خدا کے مقدس لوگوں کو تکلیفیں دیں۔ دیکھو کیسے امام حسین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر ہزاروں نادان یزید کے ساتھ ہو گئے اور ہی نوٹ: یہ سب باتیں اس کتاب میں لکھی ہیں جو ایک یہودی فاضل نے تالیف کی ہے جو میرے پاس موجود ہے۔ منہ