ایّام الصّلح

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 550

ایّام الصّلح — Page 228

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۲۸ اشتہار عام اطلاع کے لئے امام الصلح اگر چہ یہ کتاب بعض متفرق مقامات میں عیسائیوں کے حملوں کا جواب دیتی اور ان کو مخاطب کرتی ہے لیکن یادر ہے کہ باوجود اس بات کے کہ عیسائیوں کی کتاب امہات المومنین نے دلوں میں سخت اشتعال پیدا کیا ہے مگر پھر بھی ہم نے اس کتاب میں جہاں کہیں عیسائیوں کا ذکر آیا ہے بہت نرمی اور تہذیب اور لطف بیان سے ذکر کیا ہے اور گوایسی صورت میں کہ دل دکھانے والی گالیاں ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں ہمارا حق تھا کہ ہم مدافعت کے طور پر ختی کاسختی سے جواب دیتے لیکن ہم نے محض اس حیا کے تقاضا سے جو مومن کی صفت لازمی ہے ہر ایک تلخ زبانی سے اعراض کیا اور وہی امور لکھے ہیں جو موقعہ اور محل پر چسپاں تھے اور قطع نظر ان سب باتوں کے ہماری اس کتاب میں اور رسالہ فریاد درد میں وہ نیک چلن پادری اور دوسرے عیسائی مخاطب نہیں ہیں جو اپنی شرافت ذاتی کی وجہ سے فضول گوئی اور بدگوئی سے کنارہ کرتے ہیں اور دل دکھانے والے لفظوں سے ہمیں دکھ نہیں دیتے اور نہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کرتے اور نہ ان کی کتابیں سخت گوئی اور توہین سے بھری ہوئی ہیں۔ ایسے لوگوں کو بلا شبہ ہم عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور وہ ہماری کسی تقریر کے مخاطب نہیں ہیں بلکہ صرف وہی لوگ ہمارے مخاطب ہیں خواہ وہ بلتن مسلمان کہلاتے یا عیسائی ہیں جو حد اعتدال سے بڑھ گئے ہیں اور ہماری ذاتیات پر گالی اور بد گوئی سے حملہ کرتے یا ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان بزرگ میں تو ہین اور بہتک آمیز باتیں منہ پر لاتے اور اپنی کتابوں میں شائع کرتے ہیں۔ سو ہماری اس کتاب اور دوسری کتابوں میں کوئی لفظ یا کوئی اشارہ ایسے معزز لوگوں کی طرف نہیں ہے جو بد زبانی اور کمینگی کے طریق کو اختیار نہیں کرتے ۔ ہم اس بات کے لئے بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور اُن کی نبوت پر ایمان لاویں۔ سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو اُن کی شان بزرگ کے برخلاف ہو۔ اور اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ دھوکہ کھانے والا اور جھوٹا ہے۔ والسلام على من اتبع الهدى المشتہر مرزا غلام احمد از قادیاں