آسمانی فیصلہ — Page 387
روحانی خزائن جلد۴ ۳۸۷ نشان آسمانی بھیجا ہے وہ میرے ساتھ ہے اور میں اسکے ساتھ ہوں میرے لئے وہی پناہ کافی ہے یقینا وہ اپنے بندہ کو ضائع نہیں کرے گا۔ اور اپنے فرستادہ کو بر باد نہیں کر دے گا۔ یہ وہ تمام باتیں ہیں جو کئی دفعہ میاں کریم بخش کو کئی مجلسوں میں کہی گئیں ۔ لیکن اس نے ان سب باتوں کوسن کر ایک درد سے بھرے ہوئے دل کے ساتھ ایسا جواب دیا جس سے رونا آتا تھا اور اسکے لفظ لفظ سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خدا کے خوف سے بھر کر نہایت سچائی سے بیان کر رہا ہے اور اسکے بیان کرنے میں جو چشم پر آب ہو کر ایک رقت کے ساتھ تھا ایک ایسی تاثیر تھی جس کے اثر سے بدن پر لرزہ آتا تھا پس اس روز یقین قطعی سے سمجھا گیا کہ یہ پیشگوئی اس شخص کے رگ وریشہ میں اثر کر گئی ہے اور اسکے ایمان کو اس سے اعلیٰ درجہ کا فائدہ پہنچا ہے چنانچہ ہم ذیل میں اس کا وہ اشتہار جو اس نے اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر ایک پُر درد بیان میں لکھایا ہے درج کریں گے اسکے پڑھنے سے ناظرین جو با انصاف اور حقیقت شناس ہیں سمجھ لیں گے کہ کیسی اعلیٰ شان کی وہ شہادت ہے۔ ماسوا اسکے ایک اور پیشگوئی ہے جو ایک مرد با خدا نعمت اللہ نام نے جو ہندوستان میں اپنی ولایت اور اہل کشف ہونے کا شہرہ رکھتا ہے اپنے ایک قصیدہ میں لکھی ہے اور یہ بزرگ سات سو انچاس برس پہلے ہمارے زمانہ سے گذر چکے ہیں اور اسی قدر مدت ان کے اس قصیدہ کی تالیف میں بھی گزر گئی ہے جس میں یہ پیشگوئی درج ہے مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید دہلوی جس زمانہ میں اس کوشش میں تھے کہ کسی طرح ان کے مرشد سید احمد صاحب مہدی وقت قرار دیے جائیں اس زمانہ میں انہوں نے اس قصیدہ کو حاصل کر کے بہت کچھ سعی کی کہ یہ پیشگوئی ان کے حق میں ٹھہر جائے یہاں تک کہ انہوں نے اپنی کتاب کے ساتھ بھی اس کو شائع کر دیا لیکن اس پیشگوئی میں وہ پتے اور نشان دیئے گئے تھے کہ کسی طرح سید احمد صاحب ان علامات کے مصداق نہیں ٹھہر سکتے تھے ۔ ہاں یہ بیچ ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق کا نام احمد لکھا ہے یعنی اس آنے والے کا نام احمد ہوگا اور نیز یہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ وہ ملک ہند میں ہوگا اور نیز یہ بھی لکھا ہے کہ وہ تیرھویں صدی میں ظہور کرے گا ۔ پس بنظر