آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 362

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۶۲ ڈاکٹر جگن ناتھ صاحب ملا زم ریاست جموں کو آسمانی نشانوں کی طرف دعوت آسمانی فیصلہ میرے مخلص دوست اور الہی رفیق اخویم حضرت مولوی حکیم نور دین صاحب فانی فی ابتغاء مرضات ربانی ملازم و معالج ریاست جموں نے ایک عنایت نامہ مورخہ ۷ جنوری ۱۸۹۲ ء اس عاجز کی طرف بھیجا ہے جس کی عبارت کسی قدر نیچے لکھی جاتی ہے اور وہ یہ ہے۔ خاکسار نابکار نور الدین بحضور خدام والا مقام حضرت مسیح الزمان سلمہ الرحمن السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ کے بعد بکمال ادب عرض پرداز ہے۔ غریب نواز ۔ پر یروز ایک عرضی خدمت میں روانہ کی اس کے بعد یہاں جموں میں ایک عجیب طوفانِ بے تمیزی کی خبر پہنچی جس کو بضرورت تفصیل کے ساتھ لکھنا مناسب سمجھتا ہوں ازالہ اوہام میں حضور والا نے ڈاکٹر جگن ناتھ کی نسبت ارقام فرمایا ہے کہ وہ گریز کر گئے اب ڈاکٹر صاحب نے بہت سے ایسے لوگوں کو جو اس معاملہ سے آگاہ تھے کہا ہے۔ سیاہی سے یہ بات لکھی گئی ہے سرخی سے اس پر پرقلم پھیر دو میں نے ہرگز گریز نہیں کیا اور نہ کسی نشان کی تخصیص چاہی مردہ کا زندہ کرنا (۱۸) میں نہیں چاہتا اور نہ خشک درخت کا ہرا ہونا۔ بھنے بلا تخصیص کوئی نشان چاہتا ہوں جو نوٹ ۔ حضرت مولوی صاحب کے محبت نامہ موصوفہ کے چند فقرہ لکھتا ہوں غور سے پڑھنا چاہئے تا معلوم ہو کہ کہاں تک رحمانی فضل سے ان کو انشراح صدر و صدق قدم و یقین کامل عطا کیا گیا ہے اور وہ فقرات یہ ہیں ۔ عالی جناب مرزا جی مجھے اپنے قدموں میں جگہ دو ۔ اللہ کی رضا مندی چاہتا ہوں اور جس طرح وہ راضی ہو سکے طیار ہوں اگر آپ کے مشن کو انسانی خون کی آب پاشی ضرور ہے تو یہ نابکار ( مگر محبت انسان چاہتا ہے کہ اس کام میں کام آوے۔ تم کلا مه جزاه الله حضرت مولوی صاحب جو انکسار اور ادب اور ایثار مال وعزت اور جان فشانی میں فانی ہیں وہ خود نہیں بولتے بلکہ ان کی روح بول رہی ہے۔ در حقیقت ہم اسی وقت بچے بندے ٹھہر سکتے ہیں کہ جو خداوند منعم نے ہمیں دیا ہم اس کو واپس دیں یا واپس دینے کیلئے تیار ہو جائیں۔ ہماری جان اس کی امانت ہے اور وہ فرماتا ہے کہ تُؤَدُّوا الْآهَنتِ إلَى أَهْلِهَال سرکه نه در پائے عزیزش رود بار گران ست کشیدن بدوش منه ا النساء : ۵۹