آسمانی فیصلہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 331 of 598

آسمانی فیصلہ — Page 331

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۳۱ الحق مباحثہ دہلی کی نبوت کا حجاب ہو جاوے۔ حضرت یونس نے عذاب کے نازل ہونے کی قوم مخالف کو به تعیین و قطع خبر دی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس عذاب کو ٹال دیا تا کہ مخالفین کی نظروں میں ایک حجاب ہو جاوے۔ خلفائے راشدین کی خلافت راشدہ میں طرح طرح کے حجاب مخالفین کے واسطے کھڑے کر دیئے گئے حالانکہ یہ خلافت باقی نبوت اور تمہ رسالت تھی اور بڑے زور شور سے موعود کی گئی تھی تا کہ روافض اور خوارج کی نظروں میں وہ حجاب خفی حجاب جلی ہو جاویں اے میرے پیارے دوستو کیا اچھا کہا ہے کسی شاعر نے ؎ در کارخانه عشق از کفر ناگزیر است آتش کرا بسوز دگر بولہب نباشد ۱۹۵ مولانا شاہ ولی اللہ حکیم اُمت فرماتے ہیں کہ یہ خفاء اور حجاب اس واسطے ڈالے جاتے ہیں کہ امتحان مخلصان و منافقان بمیان آید - الحاصل جو طعن آپ حضرت مرزا صاحب پر کرتے ہیں۔ اس میں مولانا اسمعیل صاحب علیہ الرحمۃ بھی شریک ہیں۔ انا احمد بلا میم کو حدیث قرار دینا فی الحقیقت بڑا افترا اور کذب صریح ہے وہ کسی طرح پر درست نہیں سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عظیم ۔ اللہ تعالی سارے جھوٹوں کا منہ کالا کرے۔ اور پھر یہ عرض ہے کہ جملہ انا احمد بلا میم میں کوئی حرف تشبیہ وغیرہ کا مذکور نہیں جس سے معنے مجازی مفہوم ہوں صرف معنے حقیقی متبادر ہوتے ہیں اور وہ بالاتفاق باطل ہیں بخلاف کلام مرزا صاحب کے کہ اس میں جابجا الفاظ مجاز اور استعارات کی تصریح ہے جس سے سوا اتحاد مجازی کے اتحاد حقیقی مفہوم ہی نہیں ہوتا حتی کہ شعر میں بھی لفظ آنچنان کا موجود ہے۔ ۔ آنچنان از خود جدا شد کز میان افتاد میم لفظ چنان کا محض تمثیل کے واسطے آتا ہے معنے حقیقی یہاں پر مراد ہوہی نہیں سکتے لا تطرونی۔ کے معنے پر ہمارا ایمان ہے اور جو اطراء مذہب نصاریٰ کا ہے وہ بالکل شرک اور کفر ہے اس کی نسبت مرزا صاحب فرما چکے ہیں کہ ان کی طبیعتیں بسبب اس شرک کے ناپاک ہو گئی ہیں