آسمانی فیصلہ — Page 328
روحانی خزائن جلد ۴ ۳۲۸ الحق مباحثہ دہلی باعتبار شجاعت کے مجازاً شیر ہے۔ اور زید باعتبار حقیقت کے ہرگز شیر نہیں ہے۔ ان دونوں میں کیا تناقض ہے۔ رسائل منطق میں آپ نے دیکھا پڑھا ہوگا۔ در تناقض ہشت وحدت شرط دان ۔۔۔۔۔ وحدت موضوع و محمول و مکان ۔ الی آخرہ۔ جو ہدایات تقویت الایمان میں ہیں۔ وہ باعتبار حقیقت کے ہیں اور جو معارف و اسرار منصب امامت وغیرہ میں مذکور ہوئے ہیں۔ وہ دوسرے اعتبارات پر مسطور ہیں۔ لو لا الاعتبارات لبـطـلــت الحكمة - جوصاحب منصب امامت وغیرہ کے مضامین کا انکار کرتے ہیں وہ عین حکمت کو باطل کر رہے ہیں اور پھر یہ گذارش ہے کہ یہ سب نزاع بھی جانے دیجئے آپ سے میں اور کچھ نہیں کہتا۔ آپ تقویت الایمان پر ہی عامل رہیے لیکن حضرت مرزا صاحب کو مثل حضرت مولانا اسمعیل شہید ومجد کی اور اُن کی کتاب توضیح المرام کو مثل کتاب منصب امامت وغیرہ کے تصور کیجئے ۔ جو حالت آخر میں حضرت مولانا اسمعیل صاحب شہید فی سبیل و مجدد کو حاصل ہوئی وہی حالت ابتدا سے اس مسجد دالوقت کی ہے اور جیسے اسرار و معارف کتاب (۱۹۳) منصب امامت صراط مستقیم میں لکھے ہیں ویسے معارف تو ضیح المرام وغیرہ میں لکھے ہیں۔ پس این ہم فیصلہ شد۔ اے میرے پیارے دوست پورے پورے غیر مقلد نہ آپ ہیں اور نہ میں ہوں ۔ کسی مسئلہ کی جب ہم اور آپ تحقیق کرنے بیٹھے تو بڑا کمال ہمارا یہ ہوگا کہ تقویت الایمان میں یوں لکھا ہے اور منصب امامت میں دوں لکھا ہے اور جلالین میں ایسا کچھ مندرج ہے اور کمالین میں ایسا کچھ اور اگر زیادہ تر اس سے تو غل علمی ہوگا تو مولوی محمدحسین کی طرح حوالے مسلم الثبوت اور مطول حمد اللہ ملاحسن،ارشاد الحول، دائرۃ الوصول کے ہونے لگیں گے۔ اب آپ فرمائیے یہ تقلید نہیں تو کیا ہے پورا پورا غیر مقلد تو وہی شخص ہو گا جو صاحب نفس قدسیہ اور مؤید من اللہ ہو اور مرتبہ مجددیت پر اللہ تعالیٰ نے اُس کو مبعوث