آریہ دھرم — Page 21
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۲۱ آریہ دھرم کی تھی اسی طرح ڈاکٹر میشن صاحب نے بیان کیا ہے کہ ایک حمل پر تین مہینے کے وقفہ سے حمل ٹھہر گیا اور دولڑ کے پیدا ہوئے اور اُنہوں نے عمر پائی اور کوئی اُن میں سے نہ مرا۔ اس جگہ بظاہر آریہ لوگ اپنے وید پر فخر کر سکتے ہیں کہ یہ بھی ایک وڈیا ہے کہ وید نے یہ بات کہہ کر کہ حاملہ عورت دوسرے سے نیوگ کر کے بچہ لیوے یہ جتادیا کہ حمل پر حمل ہو سکتا ہے لیکن غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس سے کوئی بھی وڈیا ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ جبکہ وید کے زمانہ اور بعد میں بھی ہندوؤں میں یہ عام عادت رہی ہے کہ خاوند اپنی عورتوں کو نیوگ کے لئے دوسروں کی طرف بھیجتے رہے ہیں پس جبکہ لاکھوں بلکہ کروڑہا عورتیں باوجود زندہ ہونے خاوندوں کے اور باوجود اس کے کہ انہیں کے نکاح میں تھیں دوسروں سے ہم بستر ہوتی رہیں تو اس کثرت کی کارروائیوں سے ضرور تھا کہ خود بخود ایسے تجربے حاصل ہو جاتے اور تمہیں معلوم ہے کہ طوائف کے گروہ کو بھی بعض بدکاری کے امور میں ایسے تجارب حاصل ہو جاتے ہیں کہ بیچاری پردہ نشین عورتیں اُن سے بے خبر ہوتی ہیں تو کیا یہ کہہ سکتے ہیں کہ طوائف بھی وڈیا کا سر چشمہ ہیں۔ ہاں یہ اشارہ نہایت پاکیزگی سے قرآن شریف میں موجود ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأَوْلَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ الجز نمبر ۲۸ یعنی حمل والی عورتوں کی طلاق کی عدت یہ ہے کہ وہ وضع حمل تک بعد طلاق کے دوسرا نکاح کرنے سے دستکش رہیں اس میں یہی حکمت ہے کہ اگر حمل میں ہی نکاح ہو جائے تو ممکن ہے کہ دوسرے کا نطفہ بھی ٹھہر جائے تو اس صورت میں نسب ضائع ہوگی اور یہ پتہ نہیں لگے گا کہ وہ دونوں لڑکے کس کس باپ کے ہیں۔ اور یہ بھی یادر ہے کہ پنڈت صاحب کی اس تحریر سے یہ بھی ثابت ہوا کہ نیوگ صرف اولاد کے لئے نہیں بلکہ جوش شہوت کے فرو کرنے کے لئے بھی نیوگ ہوگا اگر ایسا نہ ہوتا تو کیونکر یہ جائز ہوتا کہ ایک مرد با وجود یکہ اُس کی عورت حاملہ ہے پھر غیر عورتوں سے نیوگ کرتا پھرے اسی طرح صاف طور پر لکھا ہے کہ اگر ایک ہند و بوجہ کسی بیماری وغیرہ کے اپنی عورت کی پورے پورے طور پر تسلی نہ کر سکے تو وید آ گیا یہ ہے کہ اپنی عورت سے نیوگ کر او نے مگر پھر بھی شرط یہ ہے کہ اُس وقت تک نیوگ جاری رہے جب تک کہ نیوگ میں سے ہی اولاد ہو جاوے۔ اب ہم ان لى الطلاق ۵