آریہ دھرم — Page xxxviii
قاصر ہوں لہٰذا اسے قومی امانت سمجھ کر اس کو سیدنا قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ عالی مقام مرزا بشیر احمد صاحب سلّمہ ربّہ کے سپرد کرتا ہوں جو ایسے کاموں کے احق اور اہل ہیں تا کہ قائم ہونے والے قومی میوزیم میں رکھ کر اس کو آنے والی نسلوں کے ایمان و ایقان کی مضبوطی و زیادتی اور عرفان میں ترقی کا ذریعہ بنا سکیں۔فقط عبد الرحمن قادیانی ۲۰؍ جولائی ۱۹۴۶ء (سیرت المہدی جلد دوم۔تتمہ صفحہ ۳۶۰) اس کتاب کا پہلا ایڈیشن جو جولائی ۱۹۰۵ء میں مطبع ضیاء الاسلام پریس قادیان میں طبع ہو کر شائع ہوا تھا۔جلسہ مذاہب کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رپورٹ (مطبوعہ ۱۸۹۷ء ) کے مطابق ہے۔اس لئے موجودہ ایڈیشن کا پہلے ایڈیشن سے بعض مقامات پر الفاظ کا فرق ہے جنہیں نشان زد کر دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ تین صفحات پر مشتمل ایک پر معارف مضمون ہے جو کمیٹی کی رپورٹ اور پہلے ایڈیشن میں کسی وجہ سے شائع ہونے سے رہ گیا تھا۔اس کے سیاق و سباق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعی اس مضمون کا حصہ ہے۔دیکھئے صفحہ۳۲۲ا،صفحہ۳۲۲ب، صفحہ۳۲۲ج اور صفحہ۳۲۲د۔ناشر سید عبد الحی ژژژ