آریہ دھرم — Page 125
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۵ ست بچن وہ چھپ بھی جائیں اور دیا نند کو خبر نہ ہو۔ پس یہ بھی ایک باوا صاحب کی کرامت ہے کہ دیانند (۱۳) نے ایک لفظ کا ان پر الزام دینا چاہا اور خود اُس پر کئی ورقوں کا الزام آ گیا۔ علاوہ اس کے باو اصاحب کو حقائق سے بحث اور غرض تھی وہ ناچیز برہمنوں اور کم ظرف پنڈتوں کی طرح صرف الفاظ پرست نہیں تھے اور غالباً وہ ان لفظی نزاعوں میں جو برہمنوں کے فرقوں میں ادنیٰ اوٹی باتوں میں ہوا کرتی ہیں کبھی نہیں پڑے اور نہ اس جنس کے سفلی خیالات کی ان کے روح میں استعداد تھی۔ دیانند کو باوا صاحب کی تحقیر کے وقت شرم کرنی چاہئے تھی کیونکہ وہ خود ایسے موٹے خیالات اور غلطیوں میں گرفتار تھا کہ دیہات کے گنوار بھی اُس سے بمشکل سبقت لے جاسکتے تھے۔ دیانند نے باوا صاحب کی باتوں پر انصاف کی نظر سے غور نہیں کی اور اپنے نہایت درجہ کے بخل سے اُن کے معارف کو چھپانا چاہا اس کی بات بات سے یہ ٹپکتا ہے کہ اُس نے نہ صرف بخل اور حق پوشی کی راہ سے بلکہ شرارت سے بھی ایک ناجائز حملہ باوا صاحب پر کیا ہے ہم مناسب دیکھتے ہیں کہ مختصر طور پر اس پر چہ میں اُس حملہ کا جواب دیدیں چنانچہ ذیل میں بطور قولہ و اقول کے لکھا جاتا ہے۔ منقول از صفحه ۷۸۶ ستیارتھ پرکاش قولہ۔ نانک جی کا آئے تو اچھا تھا پر تو وڈھیا کچھ بھی نہیں تھی یعنی نا نک جی جو خدا طلبی اور فقر نانک کا آئے تو اچھاتی تو کچھ تھی نانک جو دابلی اور کے خیال میں لگ گئے یہ خیال تو اچھا تھا مگر علم سے بالکل بے بہرہ تھے۔ اقول دیا نند کے اس حملہ سے اصل غرض یہ ہے کہ فقر اور جوگ پوری وڈیا کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اور نانک جی علم سے بکلی بے نصیب تھے اس لئے خدا شناسی کا دعوی بھی صحیح نہیں تھا لیکن یقینا سمجھنا چاہئے کہ باوا صاحب پر جہالت کا الزام دینے سے خود دیا نند نے اپنی پردہ دری کرائی ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ دینی علم اور آسمانی معارف جن کا جاننا فقرا کے لئے ضروری ہے وہ اس طور سے حاصل نہیں ہوا کرتے جس طور سے دنیوی علم حاصل ہوتے ہیں دنیوی علموں میں کچھ بھی ضروری نہیں کہ انسان اُن کی تحصیل کے وقت ہر قسم کے فریب اور جعل اور چالا کی ا شریر انسانوں کا طریق ہے کہ ہجو کرنے کے وقت پہلے ایک تعریف کا لفظ لے آتے ہیں گویا وہ منصف مزاج ہیں۔ منہ