آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 122 of 550

آریہ دھرم — Page 122

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۲۲ ست بیچن کی وہ تعظیم اور وہ ثنا ہے کہ جو اُس کے افعال کی عظمت پر نگاہ کر کے اُس کے لئے واجب ٹھہرتی ہے اور ایسا ہی وہ پاک اور صاف صاف توحید ہے جس پر صحیفہ قدرت گواہی دے رہا ہے اُن کے دل میں یہ بھی یقین ہو گیا تھا کہ قرآنی تعلیم ایسے احکام پر مشتمل ہے جن کا مانا ایک نیک انسان بن جانے کو لازم پڑا ہوا ہے مثلاً جو شخص شراب خواری سے جو شہوت رانی اور عیاشیوں کی جڑھ ہے رک جائے قمار بازی سے دست بردار ہو اور عورت مرد کے ناجائز میل جول حتی کہ ایک دوسرے پر نظر ڈالنے سے کنارہ کش ہو اور حرام خوری اور رشوت اور سود خوری سے پر ہیز کرے اور نا انصافی اور جھوٹھ اور غرور اور اسراف اور دنیا پرستی اور خود غرضی اور حرام کاری اور ریا کاری سے دورر ہے اور عبادت اور محبت الہی میں سرگرم ہو اور اپنے دن رات کو ذکر الہی سے معمور رکھے اور صلہ رحم اور مروت اور ہمدردی بنی نوع اس کی عادت ہو اور توحید اور لا الہ الا اللہ اس کا مذہب ہو اور خدا تعالیٰ کو ہر یک فیض کا مظہر جانے نہ کہ روحوں کو مع اُن کی تمام قوتوں کے اپنے وجود کا آپ خدا سمجھے اور اس غیر مرئی اور غیب الغیب اور غیر محدود طاقتوں والے خدا پر ایمان لاوے جس کے پکڑنے اور مصلوب کرنے کیلئے کسی دشمن کے ہاتھ لمبے نہیں ہو سکتے اور نیز زنا اور بے حیائی اور دیوئی سے مجتنب ہو اور پرہیز گاری اور جوان مردی کے اعلیٰ مراتب پر قائم ہو بلکہ اُس کے مذہب میں کسی ناجائز محل شہوت پر دیکھنا بھی حرام ہو کہ تا دل ناجائز خیالات میں مبتلا نہ ہو جائے اور آخرت کو دنیا پر مقدم رکھے اور حق اللہ اور حق العباد میں ایک ذرہ فتور نہ کرے جیسا کہ یہ سب تعلیمیں قرآن میں موجود ہیں تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ ایک نیک اور موحد انسان بن جائے گا مگر کیا کسی دوسرے مذہب کی کتاب نے التزام اور تکمیل سے ان تعلیموں کو لکھا ہے ہر گز نہیں۔ پس یہ وہی بات تھی جو باوا صاحب کے حق پسند دل پر کھل گئی اور انہوں نے دیکھ لیا کہ کتاب اللہ صرف قرآن ہی ہے اور باقی سب کتابیں تاریکی میں پڑی ہوئی ہیں۔ لہذا اسلام کی پاک روحانیت اُن کے دل میں گھر کر گئی اور نہ صرف اسی قدر بلکہ انہوں نے اس کے نمونے بھی دیکھے اور اُس پاک نبی سے آسمانی نور حاصل کرنے والے ستاروں کی طرح