آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 112 of 550

آریہ دھرم — Page 112

لائق توجہ گورنمنٹ چونکہ سکھ صاحبوں کے بعض اخبار نے اپنی غلط فہمی سے ہمارے رسالہ ست بچن کو ایسا خیال کیا ہے کہ گویا ہم نے وہ رسالہ کسی بد نیتی اور دل آزاری کی نیت سے تالیف کیا ہے اس لئے ہم گورنمنٹ کی حضور میں اس بات کو ظاہر کرنا مناسب سمجھتے ہیں کہ یہ رسالہ جوست بچن کے نام سے موسوم ہے نہایت نیک نیتی اور پوری پوری تحقیق کی پابندی سے لکھا گیا ہے۔ اصل غرض اس رسالہ کی اُن بے جا الزاموں کا رفع دفع کرنا ہے جو آریوں کے سرگروہ دیانند پنڈت نے بابانا تک صاحب پر اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لگائے ہیں ۔ اور نہایت نالائق لفظوں اور تحقیر آمیز فقروں میں باوا صاحب موصوف کی تو ہین اور تحقیر کی ہے۔ پھر اس کے ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ نہایت قوی اور مضبوط دلائل سے ثابت ہو گیا ہے کہ باوا صاحب اپنے کمال معرفت اور گیان کی وجہ سے ہندوؤں کے ویدوں سے بالکل الگ ہو گئے تھے اور انہوں نے دیکھا کہ جس خدا کی خوبیوں میں کوئی نقص اور کسی عیب کی تاریکی نہیں اور ہر یک جلال اور قدرت اور تقدس اور کامل الوہیت کی بے انتہا چمکیں اُس میں پائی جاتی ہیں ۔ وہ وہی پاک ذات خدا ہے جس پر اہل اسلام عقیدہ رکھتے ہیں۔ اسلئے انہوں نے اپنی کمال خدا ترسی کی وجہ سے اپنا عقیدہ اسلام ٹھہرایا چنانچہ یہ تمام وجو ہات ہم اس رسالہ میں لکھ چکے ہیں اور ایسے واضح اور بدیہی طور پر یہ ثبوت دے چکے ہیں کہ بغیر اس کے ماننے کے انسان کو بن نہیں پڑتا اور ماسوائے اس کے یہ رائے کہ باوا صاحب اپنی باطنی صفائی اور اپنی پاک زندگی کی وجہ سے مذہب اسلام کو قبول کر چکے تھے صرف ہماری ہی رائے نہیں بلکہ ہماری اس کتاب سے پہلے بڑے بڑے محقق انگریزوں نے بھی یہی رائے لکھی ہے اور وہ کتابیں مدت دراز پہلے ہماری اس تالیف سے برٹش انڈیا میں تالیف ہو کر شائع بھی ہو چکی ہیں چنانچہ میں نے بطور نمونہ پادری ہیوز کی ڈکشنری کے چند اوراق انگریزی اس رسالہ کے آخر میں شامل کر دئے ہیں جن میں پادری صاحب موصوف بڑے دعوی سے باوا صاحب کا اسلام ظاہر کرتے ہیں۔ اور یہ ڈکشنری تمام برٹش انڈیا میں خوب شائع ہو چکی ہے سکھ صاحبان بھی اس سے بے خبر نہیں ہیں اس صورت میں یہ خیال کرنا کہ اس رائے میں میں ہی اکیلا ہوں یا میں نے ہی پہلے اس رائے کا اظہار کیا ہے یہ بڑی غلطی ہے ہاں میں نے وہ تمام دلائل جو دوسروں کو نہیں مل سکے اس کتاب میں اکٹھے کر کے لکھ دئے ہیں جن محقق انگریزوں نے مجھ سے پہلے یہ رائے ظاہر کی کہ با وا صاحب در حقیقت مسلمان تھے اُن کے پاس کامل دلائل کا ذخیرہ نہ تھامگر میری تحقیق سے یہ امر بدیہی طور پر کھل گیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ عالیہ پادری ہیوز کی اُس رائے پر جو بزبان انگریزی کتاب ہذا کے آخر میں شامل ہے۔ توجہ فرمادے اور میں سکھ صاحبوں سے اس بات میں اتفاق رکھتا ہوں کہ بابانا تک صاحب درحقیقت خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے تھے اور اُن میں سے تھے جن پر الہی برکتیں نازل ہوتی ہیں اور جو خدا تعالیٰ کے ہاتھ سے صاف کئے جاتے ہیں اور میں اُن لوگوں کو شریر اور کمینہ طبع سمجھتا ہوں کہ ایسے بابرکت لوگوں کو تو ہین اور ناپاکی کے الفاظ کے ساتھ یاد کریں ہاں میں نے تحقیق کے بعد وہ پاک مذہب جس سے بچے خدا کا پتہ لگتا ہے اور جو توحید کے بیان میں قانون قدرت کا ہمزبان ہے اسلام کو ہی پایا ہے سو میں خوش ہوں کہ جس دولت اور صاف روشنی کو مجھے دیا گیا مجھ سے پہلے خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت نے باوا صاحب کو بھی وہی دولت دی سو یہ ایک سچائی ہے جس کو میں چھپا نہیں سکتا اور میں اپنا اور باوا صاحب کا اس میں فخر کجھتا ہوں کہ یہ پاک تو حید خدا کے فضل نے ہمیں دی۔ خاکسار غلام احمد قادیانی ۲۰ نومبر ۱۸۹۵ء