آریہ دھرم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 550

آریہ دھرم — Page 102

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۱۰۲ آریہ دھرم مخالف یہ کارروائی نہیں بلکہ ہماری دانا گورنمنٹ خود ایسی باتوں کو ہمیشہ سوچتی ہے جس سے اس ملک کے فتنے اور فساد کم ہوں اور لوگ ایک دل ہو کر گورنمنٹ کی خدمت میں مشغول رہیں اور نیز یہ وہ مبارک طریق ہے جن سے آئندہ بے جا حملہ کرنے والے رک جائیں گے اور ہر یک جاہل متعصب مناظرہ اور مجادلہ کے لئے جرات نہیں کر سکے گا اور یہ امر تمام اُن لوگوں کے لئے مفید ہے جو یا وہ لوگوں کا کسی تدبیر سے منہ بند کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی صاحب نے ایسے مبارک محضر پر دستخط نہ کئے جس سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت مفتری لوگوں کے افتراؤں سے بچ جاتی ہے اور اسلام بہت سے کمینہ اور سراسر دروغ حملوں سے امن میں آ جاتا ہے تو اس کا اسلام نہایت بودا اور تاریکی میں پڑا ہوا ثابت ہوگا اور ہم عزم بالجزم رکھتے ہیں کہ جیسا کہ اس موقع پر ہم دینی غم خواروں کا باعزت نام مخلصانہ دعائے خیر کے ساتھ نہایت شوق سے شائع کریں گے تا ان کی مردی اور سعادت عامہ خلائق پر ظاہر ہو ایسا ہی ہم ایک پر درد تقریر کے ساتھ ان بخیل اور پست فطرت لوگوں کے نام بھی اپنے رسالہ میں شائع کر دیں گے جنہوں نے ہمارے سید مولی محمد مصطفیٰ خاتم الانبیاء فخر الاصفیاء کی حمایت عزت کے لئے کچھ بھی غم خواری اور حمیت ظاہر نہ کی۔ بھائیو کیا یہ مناسب ہے کہ آپ لوگ تو عزت کی کرسیوں پر بیٹھیں اور بڑے بڑے القاب پائیں اور ہمارے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر یک طرف سے گالیاں دی جائیں اور تحریر اور تقریر میں سراسر افتراء سے نہایت بے عزتی اور توہین کی جائے اور آپ لوگ ایک ادنی تدبیر کرنے سے بھی دریغ کریں۔ نہیں ہر گز نہیں شریف اور نجیب لوگ ہر گز دریغ نہیں کریں گے اور جو خبیث النفس دریغ کرے گا وہ مسلمان ہی نہیں ۔ مبادا دل آن فرومایه شاد که از بهر د نیاد بددیں بیاد راقم خاکسار خادم دین مصطفی غلام احمد قادیانی ۲۲ ستمبر ۱۸۹۵ء