آریہ دھرم — Page 87
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۸۷ آریہ دھرم تیسرے درجہ پر صحیح ترمذی۔ ابن ماجہ۔ مؤطا۔ نسائی۔ ابوداؤد۔ دار قطنی کتب حدیث ہیں جن کی حدیثوں کو ہم اس شرط سے مانتے ہیں کہ قرآن اور صحیحین سے مخالف نہ ہوں یہ کتا بیں ہمارے دین کی کتابیں ہیں اور یہ شرائط ہیں جن کی رو سے ہمارا عمل ہے اب ہم قانونی طور پر آپ لوگوں کو ایسے اعتراضوں سے روکتے ہیں جو خود آپ کی کتابوں اور آپ کے مذہب پر وارد ہوتے ہیں کیونکہ انصاف جن پر قوانین مبنی ہیں ایسی کارروائی کو صحت نیت میں داخل نہیں کرتا اور ہم ایسے اعتراضوں سے بھی آپ لوگوں کو منع کرتے ہیں جو ان کتابوں اور ان شرائط پر مبنی نہیں جن کا ہم اشتہار میں ذکر کرتے ہیں کیونکہ ایسی کارروائی بھی تحقیق حق کے برخلاف ہے پس ہر یک معترض پر واجب ہوگا کہ کسی اعتراض کے وقت ان کتابوں اور ان شرائط سے باہر نہ جائے اور ضروری ہوگا کہ اگر آئندہ آپ صاحبوں میں سے کوئی صاحب ہماری کسی تالیف کا رد لکھے یا رد کے طور پر کوئی اشتہار شائع کریں یا کسی مجلس میں تقریری مباحثہ کرنا چاہیں تو ان شرائط مذکورہ بالا کی پابندی سے باہر قدم نہ رکھیں یعنی ایسی باتوں کو بصورت اعتراض پیش نہ کریں جو آپ لوگوں کی الہامی کتابوں میں بھی موجود ہوں اور ایسے اعتراض بھی نہ کریں جو اُن کتابوں کی پابندی اور اُس طریق کی پابندی سے نہیں ہیں جو ہم اشتہار میں شائع کر چکے ہیں غرض اس طریق مذکورہ بالا سے تجاوز کر کے ایسی بیہودہ روایتوں اور بے سر و پا قصوں کو ہمارے سامنے ہرگز پیش نہ کریں اور نہ شائع کریں جیسا کہ یہ خائنانہ کارروائیاں پہلے اس سے ہندوؤں میں سے اندر من مراد آبادی نے اپنی کتابوں تحفہ اسلام و پاداش اسلام وغیرہ میں دکھلائیں اور پھر بعد اس کے یہ نا پاک حرکتیں مسمی لیکھر ام پیشاوری نے جو شخض نادان اور بے علم ہے اپنی کتاب تکذیب براہین اور رسالہ جہاد اسلام میں کیں اور جیسا کہ یہی بیہودہ کارروائیاں پادری عماد الدین نے اپنی کتابوں میں اور پادری ٹھا کر داس نے اپنے رسائل میں اور صفدر علی وغیرہ نے اپنی تحریروں میں لوگوں کو دھوکہ دینے کے لئے کہیں اور سخت دھو کے دے دے کر ایک دنیا کو گندگی اور کیچڑ میں ڈال دیا اور اگر آپ لوگ اب بھی یعنی اس نوٹس کے جاری ہونے کے بعد بھی اپنی خیانت پیشہ طبیعت اور عادت سے باز نہیں آئیں گے تو دیکھو ہم آپ کو ہلا ہلا کر متنبہ کرتے ہیں کہ اب یہ حرکت آپ کی صحت نیت کے خلاف سمجھی جائے گی اور محض دل آزاری اور توہین کی مد میں متصور ہوگی اور اس صورت میں ہمیں استحقاق ہوگا کہ عدالت سے اس افتراء اور توہین اور دل آزاری کی چارہ جوئی کریں اور دفعہ ۲۹۸