آریہ دھرم — Page 80
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۸۰ آریہ دھرم ۵۸ فنڈل صاحب وغیرہ صاحبان اور آریہ صاحبوں میں سے منشی کنہیا لال الکھ دہاری اور منشی اندر من مراد آبادی اور لیکھرام پشاوری نے اپنا یہی اصول مقرر کر لیا کہ ناحق کے افتراؤں اور بے اصل روایتوں اور بے بنیاد قصوں کو واجبی اعتراضات کی مدافعت میں پیش کیا مگر اصل قصور تو اس میں پادری صاحبوں کا ہے کیونکہ ہندوؤں نے اپنے ذاتی تعصب اور کینہ کی وجہ سے جوش تو بہت دکھلایا مگر براہ راست اسلام کی کتابوں کو وہ دیکھ نہ سکے وجہ یہ کہ بباعث جہالت اور کم استعدادی دیکھنے کا مادہ نہیں تھا سو اُنہوں نے اپنی کتابوں میں پادریوں کے اقوال کا نقل کر دینا غنیمت سمجھا۔ غرض ان تمام لوگوں نے بے قیدی اور آزادی کی گنجائش پا کر افتراؤں کو انتہا تک پہنچادیا اور ناحق بے وجہ اہل اسلام کا دل دکھایا اور بہتوں نے اپنی بدذاتی اور مادری بدگو ہری سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بہتان لگائے یہاں تک کہ کمال خباثت اور اس پلیدی سے جو اُن کے اصل میں تھی اُس سید المعصومین پر سراسر دروغ گوئی کی ۵۸ بقیہ عرض کیا چاہتے ہیں ۔ حاشیه اول یہ کہ وہ اسلام کے مقابل پر اُن بیہودہ روایات اور بے اصل حکایات سے مجتنب رہیں جو ہماری مسلم اور مقبول کتابوں میں موجود نہیں اور ہمارے عقیدہ میں داخل نہیں اور نیز قرآن کے معنی اپنے طرف سے نہ گھڑ لیا کریں بلکہ وہی معنی کریں جو تو اتر آیات قرآنی اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور پادری صاحبان اگرچہ انجیل کے معنے کرنے کے وقت ہر یک بے قیدی کے مجاز ہوں مگر ہم مجاز نہیں ہیں اور انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارے مذہب میں تفسیر بالرائے معصیت عظیمہ ہے قرآن کی کسی آیت کے معنی اگر کریں تو اس طور سے کرنے چاہئے کہ دوسری قرآنی آیتیں ان معنوں کی مؤید اور مفسر ہوں اختلاف اور تناقض پیدا نہ ہو کیونکہ قرآن کی بعض آیتیں بعض کے لئے بطور تفسیر کے ہیں اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی حدیث صحیح مرفوع متصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی انہیں معنوں کی مفسر ہو کیونکہ جس پاک اور کامل نبی پر قرآن نازل ہوا وہ سب سے بہتر قرآن شریف کے معنی جانتا ہے۔ غرض اتم اور اکمل طریق معنے کرنے کا تو یہ ہے لیکن اگر کسی آیت کے بارے میں حدیث صحیح مرفوع متصل نہ مل سکے تو ادنی درجہ استدلال کا یہ ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے معنی دوسری آیات بینات سے کئے جاویں