آریہ دھرم — Page 62
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۶۲ آریہ دھرم اور بدذاتی ہے جو واقعات صحیحہ کو چھوڑ کر افترا کئے جائیں قرآن موجود بخاری مسلم موجود ہے ۵۵ نکالو کہاں سے یہ بات نکلتی ہے کہ آنحضرت زینب کے نکاح کو خود اپنے لئے چاہتے تھے کیا آپ نے زید کو کہا تھا کہ تو طلاق دیدے تا میرے نکاح میں آوے بلکہ آپ تو بار بار طلاق دینے سے ہمدردی کے طور پر منع کرتے تھے یہ تو وہ باتیں ہیں جو ہم نے قرآن اور حدیث میں سے لکھی ہیں لیکن اگر کوئی اس کے برخلاف مدعی ہے تو ہماری کتب موصوفہ سے اپنے دعوے کو ثابت کرے ورنہ بے ایمان اور خیانت پیشہ ہے اور یہ بات جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے نکاح پڑھ دیا اس کے معنے یہ ہیں کہ یہ نکاح میری مرضی کے موافق ہے اور میں نے ہی چاہا ہے کہ ایسا ہو تا مومنوں پر حرج باقی نہ رہے۔ یہ معنے تو نہیں کہ اب زینب کے خلاف مرضی اس پر قبضہ کر لو ظاہر ہے کہ نکاح پڑھنے والے کا یہ منصب تو نہیں ہوتا کہ کسی عورت کو اُس کے خلاف مرضی کے مرد کے حوالہ کر دیوے بلکہ وہ تو نکاح پڑھنے میں ان کی مرضی کا تابع ہوتا ہے سو خدا تعالیٰ کا نکاح یہی ہے کہ زینب کے دل کو اُس طرف جھکا دیا اور آپ کو فرما دیا کہ ایسا کرنا ہوگا تا امت پر حرج نہ رہے۔ اب بھی اگر کوئی باز نہ آوے تو ہمیں قرآن اور بخاری اور مسلم سے اپنے دعوے کا ثبوت دکھلا دے کیونکہ ہمارے دین کا تمام مدار قرآن شریف پر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث قرآن کی مفسر ہے اور جو قول اِن دونوں کے مخالف ہو وہ مردود اور شیطانی قول ہے یوں تو تہمت لگا نا سہل ہے مثلاً اگر کسی آریہ کو کوئی کہے کہ تیری والدہ کا تیرے والد سے اصل نکاح نہیں ہوا جبرا اُس کو پکڑ لائے تھے اور اُس پر کوئی اطمینان بخش ثبوت نہ دے اور مخالفانہ ثبوت کو قبول نہ کرے تو ایسے بدذات کا کیا علاج ہے ایسا ہی وہ شخص بھی اس سے کچھ کم بدذات نہیں جو مقدس اور راستبازوں پر بے ثبوت تہمت لگاتا ہے ایماندار آدمی کا یہ شیوہ ہونا چاہئے