اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 615

اَربعین — Page 476

روحانی خزائن جلد۱۷ اربعین نمبر ۴ خدا کے کلام میں کسی کو کہا جاتا ہے کہ وہ ضرور مر جائے گا تو وہاں بھی یہ لفظ بول کر ماضی سے استقبال کا کام لیتے ہیں یعنی اگر چہ وہ موت ابھی وقوع میں نہیں آئی تا ہم اس کا واقع ہونا ایسا یقینی ہے کہ گویا وہ مر گیا ہے یا مرا ہوا ہے۔ اور اس قسم کے محاورے ہر زبان میں ہوتے ہیں۔ عبرانی بائبل میں اور بھی کئی جگہ اس طرح سے کہا گیا ہے۔ مثلاً ۲ - سلاطین ۔ باب ۲۰ - آیت ا۔ انہی دنوں میں حزقیاہ کو موت کی بیماری ہوئی۔ تب اموص کا بیٹا یسعیا اس پاس آیا اور اسے کہا: - خداوند یوں فرماتا ہے۔ تو اپنے گھر کی بابت وصیت کر ( 17 7775- کی میت اتاہ و لوتحی یاہ ) کیونکہ تو مرجاۓ گا اور نہیں جیئے گا۔ دیکھو اس لفظ میت کے معنے جو کہ استثناء ۱۸:۱۸ میں آیا ہے۔ یہاں مر جائے گا کے معنے کئے گئے ہیں۔ خروج باب ۱۱ - آیت 451 1152 2×٢٦ ٥٦٧٥-وميت كول بكور بارض مصرائم اور زمین مصر میں سارے پلوٹھے مرجائیں گے۔ ۱ - سلاطین ۱۲:۱۴ ۔ اور جب تیرا قدم شہر میں داخل ہو گا تو (na 747 میت هیالید) وہ بچہ مرجائے گا۔ یرمیاہ ۱۵:۲۸ ۔ تب یرمیاہ نبی نے حننیاہ نبی سے کہا کہ اے حننیاہ اب سن خداوند نے تجھے نہیں بھیجا پر تو اس قوم کو جھوٹ کہہ کہہ کے امیدوار کرتا ہے۔ اس لئے خداوند یوں کہتا ہے کہ دیکھ میں تجھے روئے زمین پر سے خارج کروں گا (7227 n inx- هشـــانــه آقــاه میت ) تو اسی سال میں مرے گا چنانچہ اسی سال ساتویں مہینے جننیاہ نبی مرگیا۔