اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 615

اَربعین — Page 471

روحانی خزائن جلد ۱۷ اربعین نمبر ۴ دوران سر اور کئی خواب اور تشنج دل کی بیماری دورہ کے ساتھ آتی ہے۔ اور دوسری چادر جو میرے نیچے کے حصہ بدن میں ہے وہ بیماری ذیا بیطس ہے کہ ایک مدت سے دامنگیر ہے اور بسا اوقات ستوا سو دفعہ رات کو یا دن کو پیشاب آتا ہے اور اس قدر کثرت پیشاب سے جس قدر عوارض ضعف وغیرہ ہوتے ہیں وہ سب میرے شامل حال رہتے ہیں۔ بسا اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ نماز کے لئے جب زینہ چڑھ کر اوپر جاتا ہوں تو مجھے اپنی ظاہر حالت پر امید نہیں ہوتی کہ زینہ کی ایک سیڑھی سے دوسری سیڑھی پر پاؤں رکھتے تک میں زندہ رہوں گا۔ اب جس شخص کی زندگی کا یہ حال ہے کہ ہر روز موت کا سامنا اس کے لئے موجود ہوتا ہے اور ایسے مرضوں کے انجام کی نظیریں بھی موجود ہیں تو وہ ایسی خطرناک حالت کے ساتھ کیونکر افترا پر جرات کر سکتا ہے اور وہ کس صحت کے بھروسے پر کہتا ہے کہ میری اُستی برس کی عمر ہوگی حالانکہ ڈاکٹری تجارب تو اس کو موت کے پنجہ میں ہر وقت پھنسا ہوا خیال کرتے ہیں۔ ایسی مرضوں والے مدقوق کی طرح گداز ہو کر جلد مرجاتے ہیں یا کار بین کل یعنی سرطان سے اُن کا خاتمہ ہو جاتا ہے تو پھر جس زور سے میں ایسی حالت پر خطر میں تبلیغ میں مشغول ہوں کیا کسی مفتری کا کام ہے۔ جب میں بدن کے اوپر کے حصہ میں ایک بیماری۔ اور بدن کے نیچے کے حصے میں ایک دوسری بیماری دیکھتا ہوں تو میرا دل محسوس کرتا ہے کہ یہ وہی دو چادریں ہیں جن کی خبر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے۔ میں محض نصیحتا الله مخالف علماء اور ان کے ہم خیال لوگوں کو کہتا ہوں کہ گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں ہے ۔ اگر آپ لوگوں کی یہی طینت ہے تو خیر آپ کی مرضی ۔ لیکن اگر مجھے آپ لوگ کا ذب سمجھتے ہیں تو آپ کو یہ بھی تو اختیار ہے کہ مساجد میں اکٹھے ہو کر یا الگ الگ میرے پر بد دعائیں کریں