اَربعین — Page 468
روحانی خزائن جلد ۱۷ ۴۶۸ ضمیمه اربعین نمبر ۳ و ۴ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده و نصلّی درد دل سے ایک دعوت قوم کو اربعین نمبر ۴ میں نے اپنا رسالہ اربعین اس لئے شائع کیا ہے کہ مجھ کو کا ذب اور مفتری کہنے والے سوچیں کہ یہ ہر ایک پہلو سے فضل خدا کا جو مجھ پر ہے ممکن نہیں کہ بجز نہایت درجہ کے مقرب اللہ کے کسی معمولی مہم پر بھی ہو سکے چہ جائے کہ نعوذ باللہ ایک مفتری بد کردار کو یہ شان اور مرتبہ حاصل ہو۔ اے میری قوم! خدا تیرے پر رحم کرے۔ خدا تیری آنکھیں کھولے یقین کر کہ میں مفتری نہیں ہوں۔ خدا کی ساری پاک کتابیں گواہی دیتی ہیں کہ مفتری جلد ہلاک کیا جاتا ہے اس کو وہ عمر ہر گز نہیں ملتی جو صادق کو مل سکتی ہے ۔ تمام صادقوں کا بادشاہ ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے اس کو وحی پانے کے لئے تیس برس کی عمر می۔ یہ عمر قیامت تک صادقوں کا پیمانہ ہے۔ اور ہزاروں لعنتیں خدا کی اور فرشتوں کی اور خدا کے پاک بندوں کی اُس شخص پر ہیں جو اس پاک پیمانہ میں کسی خبیث مفتری کو شریک سمجھتا ہے۔ اگر قرآن کریم میں آیت لو تقول بھی نازل نہ ہوتی اور اگر خدا کے تمام پاک نبیوں نے نہ فرمایا ہوتا کہ صادقوں کا پیمانہ عمر وحی پانے کا کاذب کو نہیں ملتا تب بھی ایک سچے مسلمان کی وہ محبت جو اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونی چاہئے کبھی اس کو اجازت نہ دیتی