اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 615

اَربعین — Page 455

روحانی خزائن جلد۱۷ ۴۵۵ اربعین نمبر۴ نہ لیتے ۔ کیا ۔ میں اپنے عہد کو تو ڑسکتا تھا ؟ پھر اگر مہر علی شاہ کا دل فاسد نہیں تھا تو اس نے (۲۰) ایسی بحث کی مجھ سے کیوں درخواست کی جس کو میں عہد متحکم کے ساتھ ترک کر بیٹھا تھا اور اس درخواست میں لوگوں کو یہ دھوکا دیا کہ گویا وہ میری دعوت کو قبول کرتا ہے۔ دیکھو یہ کیسے عجیب مکر سے کام لیا اور اپنے اشتہار میں یہ لکھا کہ اوّل منقولی بحث کرو ۔ اور اگر شیخ محمد حسین بٹالوی اور اس کے دو رفیق قسم کھا کر کہہ دیں کہ عقائد صیح وہی ہیں جو ہر علی شاہ پیش کرتا ہے تو بلا توقف اسی مجلس میں میری بیعت کر لو ۔ اب دیکھود نیا میں اس سے زیادہ بھی کوئی فریب ہوتا ہے؟ میں نے تو اُن کو نشان دیکھنے اور نشان دکھلانے کے لئے بلایا اور یہ کہا کہ بطور اعجاز دونوں فریق قرآن شریف کی کسی سورت کی عربی میں تفسیر لکھیں ۔ اور جس کی تفسیر اور عربی عبارت فصاحت اور بلاغت کے رو سے نشان کی حد تک پہنچی ہوئی ثابت ہو وہی مؤید من اللہ سمجھا جائے اور صاف لکھ دیا کہ کوئی منقولی بخشیں نہیں ہوں گی صرف نشان دیکھنے اور دکھلانے کے لئے یہ مقابلہ ہوگا لیکن پیر صاحب نے میری اس تمام دعوت کو کالعدم کر کے پھر منقولی بحث کی درخواست کر دی۔ اور اُسی کو مدار فیصلہ ٹھہرا دیا اور لکھ دیا کہ ہم نے آپ کی دعوت منظور کر لی صرف ایک شرط زیادہ لگا دی۔ اے مکار! خدا تجھ سے حساب لے ۔ تو نے میری شرط کا کیا منظور کیا جبکہ تیری طرف سے منقولی بحث پر بیعت کا مدار ہو گیا جس کو میں بوجہ مشتہر کردہ عہد کے کسی طرح منظور نہیں کر سکتا تھا تو میری دعوت کیا قبول کی گئی ؟ اور بیعت کے بعد اس پر عمل کرنے کا کونسا موقع رہ گیا۔ کیا یہ مگر اس قسم کا ہے کہ لوگوں کو سمجھ نہیں آسکتا تھا۔ بے شک سمجھ آیا مگر دانستہ سچائی کا خون کر دیا۔ غرض ان لوگوں کا یہ ایمان ہے۔ اس قدر ظلم کر کے پھر اپنے اشتہاروں میں ہزاروں گالیاں دیتے ہیں۔ گویا مرنا نہیں اور کیسی خوشی سے