اَربعین

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 409 of 615

اَربعین — Page 409

روحانی خزائن جلد۱۷ ۴۰۹ اربعین نمبر ۳ سے بھی زیادہ مدت تک نبوت یا رسالت یا مامور من اللہ ہونے کا جھوٹا دعوی کر کے خدا پر افترا کیا اور اب تک زندہ موجود ہیں ۔ حافظ صاحب کا یہ قول ایسا ہے کہ کوئی مومن اس کی برداشت نہیں کرے گا۔ مگر وہی جس کے دل پر خدا کی لعنت ہو ۔ کیا خدا کا کلام جھوٹا ہے؟ ومن اظلم من الذي كذب كتاب الله۔ الا ان قول الله حق والا ان لعنة الله (۲۲) على المكذبين - یہ خدا کی قدرت ہے کہ اُس نے منجملہ اور نشانوں کے یہ نشان بھی میرے لئے دکھلایا کہ میرے وحی اللہ پانے کے دن سید نا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنوں سے برابر کئے جب سے کہ دنیا شروع ہوئی ایک انسان بھی بطور نظیر نہیں ملے گا جس نے ہمارے سید و سردار نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تیس برس پائے ہوں اور پھر وحی اللہ کے دعوے میں جھوٹا ہو یہ خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خاص عزت دی ہے جو اُن کے زمانہ نبوت کو بھی سچائی کا معیار ٹھہرا دیا ہے۔ پس اے مومنو! اگر تم ایک ایسے شخص کو پاؤ جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور تم پر ثابت ہو جائے کہ وحی اللہ پانے کے دعوے پر تیس برس کا عرصہ گذر گیا اور وہ متواتر اس عرصہ تک وحی اللہ پانے کا دعوی کرتا رہا اور وہ دعوی اس کی شائع کردہ تحریروں سے ثابت ہوتا رہا تو یقیناً سمجھ لو کہ وہ خدا کی طرف سے ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی اللہ پانے کی مدت اُس شخص کو مل سکے جس شخص کو خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ جھوٹا ہے ہاں اس بات کا واقعی طور پر ثبوت ضروری ہے کہ در حقیقت اس شخص نے وحی اللہ پانے کے دعوے میں تیئیس برس کی مدت حاصل کر لی اور اس مدت میں اخیر تک کبھی خاموش نہیں رہا اور نہ اس دعوے سے دست بردار ہوا۔ سو اس امت میں وہ ایک شخص میں ہی ہوں جس کو اپنے نبی کریم کے نمونہ پر وحی اللہ پانے میں تیس برس کی مدت دی گئی ہے۔ اور تیس برس تک برابر یہ سلسلہ وحی کا جاری رکھا گیا۔ اس کے ثبوت کے لئے اوّل