اَربعین — Page 369
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۶۹ اربعین نمبر ۲ الہامات اگر میری طرف سے اُس موقع پر ظاہر ہوتے جبکہ علماء مخالف ہو گئے تھے تو وہ لوگ ہزار ہا اعتراض کرتے لیکن وہ ایسے موقع پر شائع کئے گئے جبکہ یہ علماء میرے موافق تھے۔ یہی سبب ہے کہ باوجود اس قدر جوشوں کے ان الہامات پر انہوں نے اعتراض نہیں کیا کیونکہ وہ ایک دفعہ ان کو قبول کر چکے تھے اور سوچنے سے ظاہر ہوگا کہ میرے دعوی مسیح موعود ہونے کی بنیا دا نہی الہامات سے پڑی ہے اور انہی میں خدا نے میرا نام عیسی رکھا اور جو مسیح موعود کے حق میں آمیتیں تھیں وہ میرے حق میں بیان کر دیں۔ اگر علماء کوخبر ہوتی کہ ان الہامات سے تو اس شخص کا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے تو وہ کبھی ان کو قبول نہ کرتے ۔ یہ خدا کی قدرت ہے کہ انہوں نے قبول کر لیا اور اس بیچ میں پھنس گئے ۔ غرض اعتراض کرنے والے اپنے اعتراضوں کے وقت میں یہ نہیں سوچتے کہ جس شخص نے مسیح موعود کا دعوی کیا ہے وہ تو وہ شخص ہے جس کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ اعزاز اور اکرام کے الہامات ہیں اور جس کو آنحضرت صلی اللہ (۲۲) علیہ وسلم آپ عزت دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ کیسی خوش قسمت وہ اُمت ہے جس کے اوّل سر میں میں ہوں اور آخر میں مسیح موعود ہے اور حدیثوں سے صاف طور پر ثابت ہے کہ اگر چہ وہ ایک شخص امت میں سے ہے مگر انبیاء کی اس میں شان ہے۔ پھر ایسے شخص کے حق میں صلوٰۃ اور سلام کیوں غیر موزوں اور غیر محل ہے ۔ نہ معلوم کہ ان لوگوں کی عقلوں پر کیا پھر پڑے کہ جس شخص کو تمام نبی ابتدائے دنیا سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک عزت دیتے آئے ہیں اس کو ایک ایسا ذلیل سمجھتے ہیں کہ صلوٰۃ اور سلام بھی اس پر کہنا حرام ہے ۔ یہی وجہ تو ہے کہ ہم بار بار ان لوگوں کو متنبہ کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرو اور سمجھو کہ جس شخص کو مسیح موعود کر کے بیان فرمایا گیا ہے وہ کچھ معمولی آدمی نہیں ہے بلکہ خدا کی کتابوں میں اُس کی عزت انبیاء علیہم السلام کے ہم پہلو رکھی گئی ہے تم اگر نہ مانو تو تم پر ہمارا