اَربعین — Page 358
روحانی خزائن جلد۱۷ ۳۵۸ اربعین نمبر ۲ اندھے کو راہ نہیں دکھا سکتا اور یہ صفت مہدویت اگر چہ تمام نبیوں میں پائی جاتی ہے کیونکہ وہ سب خدا تعالیٰ کے شاگرد ہیں لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں خاص طور پر اور اکمل اور اتم تھی۔ وجہ یہ کہ دوسرے نبیوں نے انسانوں سے بھی تعلیم پائی ہے چنانچہ حضرت موسیٰ نے گویا شاہزادگی کی حیثیت میں زیر نگرانی فرعون تعلیم پائی اور حضرت عیسی علیہ السلام کا اُستاد ایک یہودی تھا جس سے انہوں نے ساری بائبل پڑھی اور لکھنا بھی سیکھا ایسا ہی اگر ایک انسان مہدی اور خدا سے تعلیم پانے والا ہو لیکن روحانی بیماریوں کے دور کرنے کے لئے اس کو روح القدس عطا نہ کیا گیا ہو تب بھی وہ لوگوں پر حجت پوری نہیں کر سکتا اور روح القدس کی تائید کا متقدم بالزمان نمونہ حضرت مسیح ہیں۔ سو اس زمانہ میں عقلی پہلو سے بھی روح القدس کی تائید کی ضرورت ہے کیونکہ ہر ایک انسان طبعا عقلی اور نقلی دلائل سے ایسا متاثر ہو جاتا ہے کہ اگر ان کے مخالف کوئی معجزہ بھی دکھایا جائے تو کچھ اثر نہیں کرتا اس لئے کامل مصلح کے لئے ہمیشہ سے یہ ضروری شرطیں ہیں کہ وہ ان دونوں صفتوں سے متصف ہو یعنی وہ خدا کا خاص شاگرد ہو اور پھر ہر ایک میدان میں روح القدس سے تائید پا تا ہو اور مہدی آخر الزمان کے لئے جس کا دوسرا نام حمد یا د رہے کہ اگر چہ ہر ایک نبی میں مہدی ہونے کی صفت پائی جاتی ہے کیونکہ سب نبی تلامیذ الرحمان ہیں اور نیز اگر چہ ہر ایک نبی میں مؤید بروح القدس ہونے کی صفت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ تمام نبی رُوح القدس سے تائید یافتہ ہیں لیکن پھر بھی یہ دو نام دو نبیوں سے کچھ خصوصیت رکھتے ہیں یعنی مہدی کا نام ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص ہے ۔ اور مسیح یعنی موید بروح القدس کا نام حضرت عیسی علیہ السلام سے کچھ خصوصیت رکھتا ہے گو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس نام کے رو سے بھی فائق ہیں کیونکہ اُن کو شدید القوی کا دائی انعام دیا گیا ہے لیکن روح القدس کے مرتبہ میں جو شدید القوی سے کم مرتبہ ہے حضرت