انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 56 of 581

انوارالاسلام — Page 56

روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام یعنی ہاویہ کے لفظ کی تشریح ہم نے یہ کی تھی کہ اس سے موت مراد ہے بشرطیکہ حق کی طرف وہ رجوع نہ کریں۔ اب ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنے خاص الہام سے جتلا دیا کہ انہوں نے عظمت اسلام کا خوف اور ہم اور غم اپنے دل میں ڈال کر کسی قدرحق کی طرف رجوع کیا جس سے وعدہ موت میں تاخیر ہوئی کیونکہ ضرور تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے دل میں لحاظ رکھتا اور وہی رحیم اور کریم خدا ہے جس نے اپنی کتاب مقدس میں فرمایا ہے کہ مَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَہ لے یعنی جو شخص ایک ذرہ بھر بھی نیک کام کرے وہ بھی ضائع نہیں ہوگا۔ اور ضرور اس کا اجر پائے گا۔سومسٹر عبد اللہ آتھم نے الہامی شرط کے موافق کسی قدر اسلامی سچائی کی طرف جھکنے سے اپنا اجر پالیا۔ ہاں جب پھر بے باکی اور سخت گوئی اور گستاخی کی طرف میل کرے گا ۔ تو وہ وعدہ ضرور اپنا کام کرے گا۔ اس ہمارے وعدے کا ثبوت اگر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے اپنی خوفناک حالت اور وہم اور سراسیمگی اور شہر بشہر بھاگتے پھرنے سے آپ دکھا دیا لیکن ہم اپنی فتح یابی کا قطعی فیصلہ کرنے کے لئے اور تمام دنیا کو دکھانے کے لئے کہ کیونکر ہم کو فتح نمایاں حاصل ہوئی ۔ یہ سہل اور آسان طریق تصفیہ پیش کرتے ہیں کہ اگر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کے نزدیک ہمارا یہ بیان بالکل کذب اور دروغ اور افترا ہے تو وہ ب مرد میدان بن کر اس اشتہار کے شائع ہونے سے ایک ہفتہ تک ہماری مفصلہ نوٹ : ایک ہفتہ کی میعاد تھوڑی نہیں بلکہ بہت ہے کیونکہ امرتسر سے قادیاں میں دوسرے دن خط پہنچ جاتا ہے اور ہر چند اس قدر میعاد دینا مصلحت کے بر خلاف ہے کیونکہ جو فریق در حقیقت شکست یافتہ ہے وہ انہیں چند روز میں سادہ لوحوں کو دھوکہ دے کر ہزاروں کو ورطہ ضلالت میں ڈال سکتا ہے مگر اتماماً للحجة یہ وسیع میعا د دی گئی ہے ۔۱۲۔ ل الزلزال : ٨