انوارالاسلام — Page 15
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۵ انوار الاسلام آپ سامان پیدا کئے تب غضب الہی جوش میں آیا اور طرح طرح کے عذابوں سے ان کو ہلاک کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی عذاب کا موجب کفر نہیں ہے بلکہ شرارت ہے اور تکبر میں حد سے زیادہ بڑھ جانا ﴿۱۴﴾ موجب ہے اور ایسا آدمی خواہ مومن ہی کیوں نہ ہو جب ظلم اور ایذاء اور تکبر میں حد سے بڑھے گا اور عظمت الہی کو بھلا دے گا تو عذاب الہی ضرور اس کی طرف متوجہ ہو گا۔ اور جب ایک کا فرمسکین صورت رہے گا اور اس کو خوف دامن گیر ہوگا تو گو وہ اپنی مذہبی ضلالت کی وجہ سے جہنم کے لائق ہے مگر عذاب دنیوی اس پر نازل نہیں ہوگا۔ پس دنیوی عذاب کے لئے یہی ایک قدیم اور مستحکم فلاسفی ہے اور یہی وہ سنت اللہ ہے جس کا ثبوت خدا کی تمام کتابوں سے ملتا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَإِذَا أَرَدْنَا أَنْ تُهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَتُوْا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنُهَا تَدْمِیرا یعنی جب ہمارا ارادہ اس بات کی طرف متعلق ہوتا ہے کہ کسی بستی کے لوگوں کو ہلاک کریں تو ہم بستی کے منعم اور عیاش لوگوں کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی بدکاریوں میں حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں۔ پس ان پر سنت اللہ کا قول ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے ظلموں میں انتہا تک پ پہنچ جاتے ہیں۔ تب ہم ان کو ایک سخت ہلاکت کے ساتھ ہلاک کر دیتے ہیں اور پھر ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے وَمَاكُنَا مُهْلِكِى الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظلِمُونَ ہے یعنی ہم نے کبھی کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر صرف ایسی حالت میں کہ جب اس کے رہنے والے ظلم پر کمر بستہ ہوں۔ یادر ہے کہ اگر چہ شرک بھی ایک ظلم بلکہ ظلم عظیم ہے مگر اس جگہ ظلم سے مراد وہ سرکشی ہے جو حد سے گذر جائے اور مفسدانہ حرکات انتہا تک پہنچ جائیں ورنہ اگر مجرد شرک ہو جس کے ساتھ ایذا اور تکبر اور فساد منظم نہ ہو اور ایسا تجاوز از حد نہ ہو جو واعظوں پر حملہ کریں اور ان کے قتل کرنے پر آمادہ ہوں یا معصیت پر پورے طور پر سرنگوں ہو کر بالکل خوف خدا دل سے اٹھا دیں تو ایسے شرک یا کسی اور گناہ کے لئے وعدہ عذاب آخرت ہے اور دنیوی عذاب صرف اعتداء اور سرکشی اور حد سے زیادہ بڑھنے کے وقت نازل ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت میں فرماتا ہے وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَأَمْلَيْتُ لِلَّذِينَ كَفَرُوا ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ عِقَابِ سے یعنی پہلے بھی رسولوں پر ٹھٹھا کیا گیا پس ہم نے ان کا فروں کو جو ٹھٹھا کرتے ہیں مہلت دی۔ پھر جب وہ اپنے ٹھٹھے میں کمال تک پہنچ گئے جب ہم نے ان کو پکڑ لیا اور لوگوں نے دیکھ لیا کہ کیونکر ہمارا عقاب ان پر وارد ہوا اور پھر فرماتا ہے۔ وَمَكَرُوا مَكْرًا وَ مَكَرْنَا مَكْرًا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ : یعنی کافروں نے اسلام کے مٹانے کے لئے ایک مکر کیا اور ہم نے بھی ایک مکر کیا یعنی یہ کہ ان کو اپنی مکاریوں میں بڑھنے دیا تا وہ ایسے درجہ شرارت پر بنی اسرائیل : ۱۷ - القصص : ٦٠ ٣ الرعد : ٣٣ ٤ النمل: ۵۱