انوارالاسلام — Page 5
روحانی خزائن جلد ۹ انوار الاسلام اور ضرور تھا کہ وہ کامل عذاب اس وقت تک تعمار ہے جب تک کہ وہ بے باکی اور شوخی سے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا کرے اور الہام الہی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا تھا کیونکہ الہامی عبارت میں شرطی طور پر عذاب موت کے آنے کا وعدہ تھا نہ مطلق بلا شرط وعدہ لیکن خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ مسٹر عبد اللہ آ تم نے اپنے دل کے تصورات سے اور اپنے افعال سے اور اپنی حرکات سے اور اپنے خوف شدید سے (۵) اور اپنے ہولناک اور ہراساں دل سے عظمت اسلامی کو قبول کیا اور یہ حالت ایک رجوع کرنے کی قسم ہے جو الہام کے استثنائی فقرہ سے کسی قدر تعلق رکھتی ہے کیونکہ جو شخص عظمت اسلامی کو رد نہیں کرتا بلکہ اس کا خوف اس پر غالب ہوتا ہے وہ ایک طور سے اسلام کی طرف رجوع کرتا ہے اور اگر چہ ایسا رجوع عذاب آخرت سے بچا نہیں سکتا مگر عذاب دنیوی میں بے باکی کے دنوں تک ضرور تا خیر ڈال دیتا ہے یہی وعدہ قرآن کریم اور بائبل میں موجود ہے اور جو کچھ ہم نے مسٹر عبد اللہ آعظم کی نسبت اور اس کے دل کی حالت کے بارہ میں بیان کیا یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ مسٹر عبد اللہ آتھم نے اپنے تئیں سخت مصیبت زدہ بنا کر اور اپنے تئیں شداید غربت میں ڈال کر اور اپنی زندگی کو ایک ماتمی پیرایہ پہنا کر اور ہر روز خوف اور ہر اس کی حرکات صادر کر کے اور ایک دنیا کو اپنی پریشانی اور دیوانہ پن دکھلا کر نہایت صفائی سے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ اس کے دل نے اسلامی عظمت اور صداقت کو قبول کر لیا۔ کیا یہ بات جھوٹ ہے کہ اس نے پیشگوئی کے رعب ناک مضمون کو پورے طور پر اپنے پر ڈال لیا اور جس قدر ایک انسان ایک سچی اور واقعی بلا سے ڈر سکتا ہے اسی قدر وہ اس پیشگوئی سے ڈرا۔ اس کا دل ظاہری حفاظتوں سے مطمئن نہ ہو سکا اور حق کے رعب نے اس کو دیوانہ سا بنا دیا سوخدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس کو ایسی حالت میں ہلاک کرے کیونکہ یہ اس کے قانون قدیم اور سنت قدیمہ کے مخالف ہے اور نیز یہ الہامی شرط سے مغائر اور برعکس ہے اور اگر الہام اپنی شرائط کو چھوڑ کر اور طور پر ظہور کرے تو گو جاہل لوگ اس سے خوش ہوں مگر ایسا الہام الہام الہی نہیں ہو سکتا اور یہ غیر ممکن ہے کہ خدا اپنی قرار دادو شرطوں کو بھول جائے کیونکہ شرائط کا لحاظ رکھنا صادق کے لئے ضروری ہے اور خدا اصدق الصادقین ہے۔ ہاں جس وقت مسٹر عبد اللہ ا تم اس شرط کے نیچے سے اپنے تیں باہر کرے اور اپنے لئے اپنی شوخی اور بے باکی سے ہلاکت کے سامان پیدا کرے تو وہ دن نزدیک آجائیں گے اور سزائے ہادیہ کامل طور پر نمودار ہوگی اور پیشگوئی عجیب طور پر اپنا اثر دکھائے گی۔ اور توجہ سے یادرکھنا چاہیے کہ ہادیہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبد اللہ آ تقم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کے دامن گیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا یہی