انوارالاسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 581

انوارالاسلام — Page 133

روحانی خزائن جلد ۹ ۱۳۳ منن الرحمن لے لیتا ہے جو زبان نے کرنا تھا یعنی اس بات پر قادر ہوتا ہے کہ بار یک بار یک اشارات سے (1) مخاطب کو سمجھا دے یہی طریق زبان عربی کی عادات میں سے ہے یعنی یہ زبان کبھی الف لام تعریف سے وہ کام نکالتی ہے جس میں دوسری زبانیں چند لفظوں کی محتاج ہوتی ہیں اور کبھی صرف تنوین سے ایسا کام لیتی ہے جو دوسری زبانیں طولانی فقروں سے بھی پورا نہیں کر سکتیں ایسا ہی زیروزبر د پیش بھی الفاظ کا ایسا کام دے جاتے ہیں کہ ممکن نہیں کہ کوئی دوسری زبان بغیر چند فضول فقروں کے ان کا مقابلہ کر سکے اس کے بعض لفظ بھی باوجود بہت چھوٹے ہونے کے ایسے لمبے معنے رکھتے ہیں کہ نہایت حیرت ہوتی ہے کہ یہ معنی کہاں سے نکلے مثلاً عرضت کے یہ معنی ہیں کہ میں مکہ اور مدینہ اور جو ان کے گرد دیہات ہیں سب دیکھ آیا اور طھفلٹ کے یہ معنی ہیں کہ میں چینے کی روٹی کھاتا ہوں اور ہمیشہ چینے کی روٹی کھانے کے لئے عہد کر چکا ہوں اور جشم کے یہ معنی ہیں کہ آدھی رات چلی گئی اور حیعل کے یہ معنے ہیں کہ آؤ نماز پڑھو وقت نماز ہے اور اسی طرح بہت سے لفاظ ایسے ہیں کہ صف وہ ایک حرف ی ہے گراس کے منے دویا تین لفظ پر شمال میں جسے کے وفاکر خ ق نگہ رکھ نزدیک ہو یادکر وعدہ کر ش نہ آہستہ چل اور نہ پھٹ جا خون بہادے بھڑک اور روشن ہو اپنے کپڑا کو جلدی کر بلکہ میانہ کمزور ہو جا اور آتش زنہ سے منقش کر روی اختیار کر نکل اور گندہ ہو جا ن: سست ہوجا اور عربی کے عجائبات میں سے ایک یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اور متفرق زبانوں میں جس قدر خواص ہیں اس میں وہ سب جمع ہیں مثلاً بعض زبانوں میں جیسا کہ چینی زبان میں یہ خاصیت ہے کہ اس کے سارے الفاظ ایک ہی جز کے ہیں اور ہر یک جزا اپنی اپنی جگہ مستقل معنی رکھتی ہے سو یہ خاصیت بھی بعض حصہ عربی میں پائی گئی ہے۔ ایسا ہی بیان کیا گیا ہے کہ امریکہ کی اصل زبان کے الفاظ کئی کئی اجزاء سے مل کر بنے ہوئے ہوتے ہیں اور ان اجزاء کے