انوارالاسلام — Page 116
روحانی خزائن جلد ۹ ۱۱۶ انوار الاسلام لالچ میں کیونکر داخل ہوا۔ قولہ : یہ قرآن میں نہیں کہ عذاب کا وعدہ آیا اور کسی قدر خوف سے ٹل گیا۔ الجواب : تمام قرآن اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے کہ اگر تو بہ واستغفار قبل نزول عذاب ہو تو وقت نزول عذاب مل جاتا ہے بائبل میں ایک بنی اسرائیل کے بادشاہ کی نسبت لکھا ہے کہ اس کی نسبت صاف طور پر وحی وارد ہو چکی تھی کہ پندرہ دن تک اس کی زندگی ہے پھر فوت ہو جائے گا لیکن اس کی دعا اور تضرع سے خدا تعالیٰ نے وہ پندرہ دن کا وعدہ پندرہ سال کے ساتھ بدلا دیا اور موت میں تا خیر ڈال دی۔ یہ قصہ مفسرین نے بھی لکھا ہے بلکہ اور حدیثیں اس قسم کی بہت ہیں ۱۳ جن کا لکھنا موجب طول ہے بلکہ علاوہ وعید کے ملنے کے جو کرم مولیٰ میں داخل ہے اکا بر صوفیاء کا مذہب ہے جو کبھی وعدہ بھی ٹل جاتا ہے اور اس کا ٹلنا موجب ترقی درجات اہل کمال ہوتا ہے دیکھو فیوض الحرمین شاہ ولی اللہ صاحب اور فتوح الغیب سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہما نوٹ : ان بزرگوں نے جو عدم ایفا ء وعدہ خدا تعالیٰ پر جائز رکھا ہے تو اس سے یہی مراد ہے کہ جائز ہے کہ جس بات کو انسان نے اپنے ناقص علم کے ساتھ وعدہ سمجھ لیا ہے وہ علم باری میں وعدہ نہ ہو بلکہ اس کے ساتھ ایسی مخفی شرائط ہوں جن کا عدم تحقق عدم تحقق وعدہ کے لئے ضروری ہو اور علامہ محقق سید علی بن سلیمان مغربی نے اپنی کتاب و شــى الديباج عـلـى صحيح مسلم بن الحجاج کے صفحہ ۱۲۶ میں تحت حديث يخشى ان تكون الساعة لکھا ہے۔ فانه صلى الله عليه وسلم لكمال معرفته بربه لا يرى وجوب شيء عليه تعالى ككون الساعة لا تقوم الا بعد تلك المقدمات ای خروج الدجال وغيره و ان وعد به یعنی آنحضرت صلم اپنے کمال معرفت کی وجہ سے قبل از قیامت ان علامات کا ظاہر ہونا ضروری نہیں سمجھتے تھے اور خدا تعالیٰ پر یہ حق واجب نہیں خیال کرتے تھے کہ اس کے وعدہ کے موافق دجال اور دآبتہ الارض اور مہدی موعود وغیرہ علامات موعودہ پوری ہوں پھر قیامت آوے بلکہ وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ ممکن ہے کہ قیامت آ جائے اور ان علامتوں میں سے کوئی بھی ظاہر نہ ہو اور کسی قدر اسی کے موافق مواہب لدنیہ کی شرح میں لکھا ہے جو امام علامہ محمد بن عبد الباقی کی طرف سے ہے اور جو از نسخ اخبار کی طرف اشارہ کیا ہے دیکھو صفحہ ۴۵ شرح مذکورلیکن میرے نزدیک ان بزرگوں