انوارالاسلام — Page 91
روحانی خزائن جلد ۹ ۹۱ انوار الاسلام السـر عـن سـاقه۔ يومئذ يفرح المؤمنون۔ ثلة من الاولين و ثلة من الأخرين و هذه تذكرة فمن شاء اتخذ الى ربه سبیلا دیکھوانوارالاسلام صفحہ ۲ ۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہر ایک الہام کے لئے وہ سنت اللہ بطور امام اور مہیمن اور پیشرو کے ہے جو قرآن کریم میں وارد ہو چکی ہے اور ممکن نہیں کہ کوئی الہام اس سنت کو تو ڑ کر ظہور میں آوے کیونکہ اس سے پاک نوشتوں کا باطل ہونا لازم آتا ہے پھر جبکہ قرآنی تعلیم نے صاف طور پر بتلا دیا کہ ایسا رجوع بھی دنیوی عذاب میں تا خیر ڈال دیتا ہے جو محض دل کے ساتھ ہو اور معذالک ایسا ناقص بھی ہو جو امن کے ایام میں قائم نہ رہے تو پھر کیونکر ممکن تھا کہ آتھم اپنے اس رجوع سے فائدہ نہ اٹھاتا بلکہ اگر یہ شرط الہام میں بھی موجود نہ ہوتی تب بھی اس سنت اللہ سے فائدہ اٹھانا ضروری تھا کیونکہ کوئی الہام ان سنتوں کو باطل نہیں کرسکتا جو قرآن کریم میں آچکی ہیں بلکہ ایسے موقع پر الہام میں شرط مخفی کا اقرار کرنا پڑے گا جیسا کہ اس پر تمام اصفیاء اور اولیاء کا اتفاق ہے۔ (۱۴) اعتراض چودھواں ۔ دراصل آتھم صاحب کے حواس قائم نہیں ہیں اور اب ۱۷ تک کچھ دہشت زدہ ہیں اس لئے پادری صاحبان ان کو قسم کھانے پر آمادہ نہیں کر سکتے اس اندیشہ سے کہ شاید قسم کھانے کے وقت اسلام کا اقرار ہی نہ کر لیں ۔ الجواب: اگر آتھم صاحب کے حواس میں خلل ہے تو سوال یہ ہے کہ آیا یہ خلل پیشگوئی کے پہلے بھی موجود تھایا پیشگوئی کے بعد ہی ظہور میں آیا اگر پیشگوئی کے پہلے موجود تھا تو ایسا خیال بدیہی البطلان ہے کیونکہ وہ اس حالت میں بحث کے لئے کیونکر اور کیوں منتخب کئے گئے اور طرفہ تر یہ کہ خود ڈاکٹر نے ان کو اس بحث کے لئے منتخب کیا تھا تو بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ڈاکٹر مارٹن کلارک کے حواس میں بھی خلل تھا اور اگر یہ خلل پیشگوئی کے بعد میں پیدا ہوا تو پھر وہ پیشگوئی کی تاثیرات میں سے ایک تاثیر مجھی جائے گی اور عذاب مقدر کا ایک جز ومتصور