انوارالاسلام — Page 72
روحانی خزائن جلد ۹ ۷۲ انوار الاسلام ہماری اس تحریر کے دو حصے ہیں پہلا حصہ ان مولویوں اور نا واقف مسلمانوں اور عیسائیوں سے متعلق ہے جو خواہ نخواہ عیسائیوں کو فتح یاب قرار دیتے ہیں اور ہماری فتح کے دلائل قاطعہ کو کمزور خیال کرتے ہیں اور اپنی خبث باطنی اور بخل اور غباوت کی وجہ سے اس سیدھی اور صاف بات کو نہیں سمجھتے جو نہایت بدیہی اور واضح ہے اور دوسرے حصہ میں آتھم صاحب کی خدمت میں ایک خط ہے جس میں ہم نے ان پر (۲) حجت اللہ پوری کر دی ہے۔ اب سمجھنا چاہیے کہ بخیل مولویوں اور نا واقف مسلمانوں اور عیسائیوں کے اعتراض یہ ہیں جو ہم ذیل میں لکھ کر دفع کرتے ہیں ۔ (۱) اعتراض اوّل ۔ پیشگوئی تو جھوٹی نکلی اب تاویلیں کی جاتی ہیں الجواب منصف بنو اور سوچو اور خدا تعالیٰ سے ڈرو اور آنکھیں کھول کر اس الہام کو پڑھو جو مباحثہ کے اختتام پر لکھایا گیا تھا کیا اس کے دو پہلو تھے یا ایک تھا کیا اس میں صریح اور صاف طور پر نہیں لکھا تھا کہ ہاویہ میں گرایا جاوے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے ۔ اب قسماً کہو کیا اس کو تاویل کہہ سکتے ہیں یا صریح شرط موجود ہے کیا خدا تعالیٰ کا اختیار نہ تھا کہ دو پہلو میں سے جس کو چاہتا اسی کو پورے ہونے دیتا کیا ہم نے پیچھے سے تاویل کے طور پر کوئی بات بنالی یا پہلے سے صاف اور کھلی کھلی شرط موجود ہے ۔ (۲) اعتراض دویم ۔ بے شک شرط موجود تو ہے مگر یہ کہاں سے اور کیونکر ثابت ہوا کہ آتھم صاحب نے خوف کے دنوں میں رجوع اسلام کی طرف کر لیا تھا اور اسلامی عظمت کو دل میں بٹھا لیا تھا کیا کسی نے اس کو کلمہ پڑھتے سنا یا نماز پڑھتے دیکھا بلکہ وہ تو اب بھی اخباروں میں یہی چھپواتا ہے کہ میں عیسائی ہوں اور عیسائی تھا۔ الجواب آتھم صاحب کا بیان بحیثیت شاہد مطلوب ہے نہ بحیثیت مدعا علیہ پس آتھم صاحب بغیر اس قسم غلیظ کے جس کا ہم مطالبہ کر رہے ہیں اور جس کے لئے اب ہم تین ہزار روپیہ نقدان کو دیتے ہیں جو کچھ بیان فرما رہے ہیں یا اخباروں میں چھپوا رہے ہیں وہ