انجام آتھم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 2 of 448

انجام آتھم — Page 2

روحانی خزائن جلدا ۲ انجام آنقم سوم ۔ اور یادر ہے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم میں کامل عذاب ( یعنی موت) کی بنیادی اینٹ رکھ دی گئی ہے اور وہ عنقریب بعض تحریکات سے ظہور میں آجائے گی خدا تعالیٰ کے تمام کام اعتدال اور رحم سے ہیں اور کینہ ور انسان کی طرح خواہ نخواہ جلد باز نہیں۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۱۰۔ چهارم ۔ اس ہماری تحریر سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو ہونا تھا وہ سب ہو چکا اور آگے کچھ نہیں۔ کیونکہ آئندہ کے لئے الہام میں یہ بشارتیں ہیں۔ وَنُمَزِقُ الْأَعْدَاءَ كُلَّ مُمَزَّقٍ - ہم دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے یعنی اپنی حجت کامل طور پر ان پر پوری کر دیں گے۔ دیکھو انوار الاسلام صفحہ ۱۵۔ پنجم ۔ اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے اور اگر تم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دنیا کو دھوکہ دینا چاہا اور وہ دن نزدیک ہیں دور نہیں ۔ یعنی اُس کی موت کے دن ۔ دیکھو اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ ۱۔ ششم ۔ مگر تاہم یہ کنارہ کشی آتھم کی (یعنی قسم سے انکار کرنا) بے سود ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ نادان پادریوں کی تمام یاوہ گوئی آتھم کی گردن پر ہے۔ اگر چہ آتھم نے نالش اور قسم سے پہلو تہی کر کے اپنے اس طریق سے صاف جتلایا کہ ضرور اس نے رجوع سبق کیا۔ اور تین حملوں کے طرز وقوع سے بھی جن کا وہ مدعی تھا کھلے طور پر بتلا دیا کہ وہ حملے انسانی حملے نہیں تھے مگر پھر بھی آتھم اس جرم سے بری نہیں ہے کہ اس نے حق کو علانیہ طور پر زبان سے ظاہر نہیں کیا۔ دیکھور سالہ ضیاء الحق مطبوعہ مئی ۱۸۹۵ صفحه ۱۶۔ ایسا ہی ان رسائل اور اشتہارات کے اور مقامات میں بار بار لکھا گیا ہے کہ موت میں صرف مہلت