رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 597

رسالہ الوصیت — Page 340

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۳۶ مجھ کو خط پہنچا ہے۔ اور وہ اپنے خط میں کتاب ینابیع الاسلام کی نسبت جو ایک عیسائی کی کتاب ہے ایک خوفناک ضرر کا اظہار کرتے ہیں۔ افسوس کہ اکثر مسلمان اپنی غفلت کی وجہ سے ہماری کتابوں کو نہیں دیکھتے اور وہ برکات جو خدا تعالیٰ نے ہم پر نازل کئے یہ لوگ بالکل اس سے بے خبر ہیں۔ اور نادان مولویوں نے ہمیں کافر کافر کہنے سے ہم میں اور عام مسلمانوں میں ایک دیوار کھینچ دی ہے۔ ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ اب وہ زمانہ جاتا رہا کہ جس میں عیسائیت کے مکر وفریب کچھ کام کرتے تھے ۔ اور اب چھٹا ہزار آدم کی پیدائش سے آخر پر ہے جس میں خدا کے سلسلہ کو فتح ہوگی اور روشنی اور تاریکی میں یہ آخری جنگ ہے جس میں روشنی مظفر اور منصور ہو جائے گی اور تاریکی کا خاتمہ ہے۔ اور کچھ ضرور نہ تھا کہ پادری صاحبوں کے ان بوسیدہ خیالات پر کچھ لکھا جاتا لیکن ایک شخص کے اصرار سے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے یہ مختصر رسالہ لکھنا پڑا۔ خدا تعالیٰ اس میں برکت ڈالے اور لوگوں کی ہدایت کا موجب کرے ۔ آمین اور یا در ہے کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی عزت کرتے ہیں اور ان کو خدا تعالیٰ کا نبی سمجھتے ہیں یے اس جنگ کے لفظ سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ تلوار یا بندوق سے یہ جنگ ہوگا۔ وجہ یہ کہ اب اس قسم کے جہاد خدا تعالی نے منع کر دئیے ہیں کیونکہ ضرور تھا کہ مسیح موعود کے وقت میں اس قسم کے جہاد منع کئے جاتے جیسا کہ قرآن شریف نے پہلے سے یہ خبر دی ہے اور صحیح بخاری میں بھی مسیح موعود کی نسبت یہ حدیث ہے کہ يضع الحرب۔ منه ہمارے قلم سے حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت جو کچھ خلاف شان ان کے نکلا ہے وہ الزامی جواب کے رنگ میں ہے اور وہ دراصل یہودیوں کے الفاظ ہم نے نقل کئے ہیں۔ افسوس اگر حضرات یا دری صاحبان تہذیب اور خداترسی سے کام لیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی طرف سے بھی اُن سے ہیں حصے زیادہ ادب کا خیال رہے۔ منہ