رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 338 of 597

رسالہ الوصیت — Page 338

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۳۴ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اشتہا ر واجب الاظهار از طرف ایں خاکسار درباره پیشگوئی زلزلہ چشمه سیحی۔ K۔ KOK دوستو !! جا گو کہ اب پھر زلزلہ آنے کو ہے پھر خدا قدرت کو اپنی جلد دکھلانے کو ہے وہ جو ماہ فروری میں تم نے دیکھا زلزلہ تم یقیں سمجھو کہ وہ اک زجر سمجھانے کو ہے آنکھ کے پانی سے یارو کچھ کرو اس کا علاج آسماں اے غافلو اب آگ برسانے کو ہے کیوں نہ آویں زلزلے تقویٰ کی رہ گم ہو گئی اک مسلماں بھی مسلماں صرف کہلانے کو ہے کس نے مانا مجھ کو ڈر کر کس نے چھوڑا بغض و کیس زندگی اپنی تو اُن سے گالیاں کھانے کو ہے کافر و دجال اور فاسق ہمیں سب کہتے ہیں کون ایماں صدق اور اخلاص سے لانے کو ہے جس کو دیکھو بدگمانی میں ہی حد سے بڑھ گیا گر کوئی پوچھے تو سوسو عیب بتلانے کو ہے چھوڑتے ہیں دیں کو اور دنیا سے کرتے ہیں پیار سو کریں وعظ و نصیحت کون پچھتانے کو ہے ہاتھ سے جاتا ہے دل دیں کی مصیبت دیکھ کر پر خدا کا ہاتھ اب اس دل کو ٹھہرانے کو ہے اس لئے اب غیرت اس کی کچھ تمہیں دکھلائے گی ہر طرف یہ آفت جاں ہاتھ پھیلانے کو ہے موت کی رہ سے ملے گی اب تو دیں کو کچھ مدد ورنہ دیں اے دوستو ! اک روز مر جانے کو ہے یا تو اک عالم تھا قرباں اس پر یا آئے یہ دن ایک عبد العبد بھی اس دیں کو جھٹلانے کو ہے میرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود - ۹ / مارچ ۶۱۹۰۶