رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 332 of 597

رسالہ الوصیت — Page 332

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۲۸ رساله الوصیت میں فرق کر کے دکھلاوے اس لئے اُس نے اب بھی ایسا ہی کیا ۔ خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض خفیف خفیف امتحان بھی رکھے ہوئے تھے جیسا کہ یہ بھی دستور تھا کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی قسم کا مشورہ نہ لے جب تک پہلے نذرانہ داخل نہ کرے۔ پس اس میں بھی منافقوں کے لئے ابتلا تھا۔ ہم خود محسوس کرتے ہیں کہ اس وقت کے امتحان سے بھی اعلیٰ درجہ کے مخلص جنہوں نے در حقیقت دین کو دنیا پر مقدم کیا ہے دوسرے لوگوں سے ممتاز ہو جائیں گے۔ اور ثابت ہو جائے گا کہ بیعت کا اقرار انہوں نے سچا کر کے دکھلا دیا اور اپنا صدق ظاہر کر دیا۔ بے شک یہ انتظام منافقوں پر بہت گراں گذرے گا اور اس سے ان کی پردہ دری ہوگی۔ اور بعد موت وہ مرد ہوں یا عورت اس قبرستان میں ہر گز دفن نہیں ہو سکیں گے ۔ فِي قُلُوبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ اللهُ مَرَضًا لیکن اس کام میں سبقت دکھلانے والے راستبازوں میں شمار کئے جائیں گے اور ابد تک خدا کی اُن پر رحمتیں ہوں گی ۔ بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ بلاؤں کے دن نزدیک ہیں اور ایک سخت زلزلہ جو زمین کو تہ و بالا کر دے گا قریب ہے پس وہ جو معائنہ عذاب سے پہلے اپنا تارک الدنیا ہونا ثابت کر دیں گے اور نیز یہ بھی ثابت کریں گے کہ کس طرح انہوں نے میرے حکم کی تعمیل کی ۔ خدا کے نزدیک حقیقی مومن وہی ہیں اور اُس کے دفتر میں سابقین اولین لکھے جائیں گے۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ زمانہ قریب ہے کہ ایک منافق جس نے دنیا سے محبت کر کے اس حکم کو ٹال دیا ہے وہ عذاب کے وقت آو مار کر کہے گا کہ کاش میں تمام جائیداد کیا منقولہ اور کیا غیر منقولہ خدا کی راہ میں دے دیتا اور اس عذاب سے بچ جاتا ۔ یاد رکھو! کہ اس عذاب کے معائنہ کے بعد ایمان بے سود ہوگا اور صدقہ خیرات محض عبث ۔ دیکھو!! میں بہت قریب عذاب کی تمہیں اطلاع دیتا ہوں اپنے لئے البقرة : 1