رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 597

رسالہ الوصیت — Page 315

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۳۱۱ رسالہ الوصیت اور وہ واحد ہے اپنی ذات میں اور صفات میں اور افعال میں اور قدرتوں میں ۔ اور اُس تک پہنچنے کے لئے تمام دروازے بند ہیں مگر ایک دروازہ جو فرقان مجید نے کھولا ہے اور تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جو پہلے گزر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمد یہ اُن سب پر مشتمل اور حاوی ہے۔ اور بجز اس کے سب راہیں بند ہیں ۔ تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں اس لئے اس نبوت پر تمام نبوتوں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہیے تھا کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک 1 انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت محمد یہ اپنی ذاتی فیض رسانی سے قاصر نہیں بلکہ سب نبوتوں سے زیادہ اس میں فیض ہے اس نبوت کی پیروی خدا تک بہت سہل طریق سے پہنچا دیتی ہے اور اس کی پیروی سے خدا تعالیٰ کی محبت اور اُس کے مکالمہ مخاطبہ کا اُس سے بڑھ کر انعام مل سکتا ہے جو پہلے ملتا تھا مگر اس کا کامل پیر و صرف نبی نہیں کہلا سکتا کیونکہ نبوت کا ملہ تامہ محمد یہ کی اس میں ہتک ہے ہاں اُمتی اور نبی دونوں لفظ اجتماعی حالت میں اُس پر صادق آ سکتے ہیں کیونکہ اس میں نبوت تامہ کا ملہ محمدیہ کی بہتک نہیں بلکہ اُس نبوت کی چمک اس فیضان سے زیادہ تر ظاہر ہوتی ہے اور جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ ستک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو۔ اور کھلے طور پر امور غیبیہ پر مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے حمد باوجود اس کے یہ خوب یا درکھنا چاہیے کہ نبوت تشریعی کا دروازہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل مسدود ہے اور قرآن مجید کے بعد اور کوئی کتاب نہیں جو نئے احکام سکھائے یا قرآن شریف کا حکم منسوخ کرے یا اس کی پیروی معطل کرے بلکہ اس کا عمل قیامت تک ہے۔ منہ