رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 597

رسالہ الوصیت — Page 302

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۹۸ لیکچر لدھیانہ کہا ہے۔ علاوہ اس کے یہودیوں اور عیسائیوں کی جانی دشمنی ہے۔ کتابیں جدا جدا ہیں۔ وہ اب تک مانتے ہیں کہ الیاس دوبارہ آئے گا۔ اگر یہ سوال نہ ہوتا تو حضرت مسیح کو وہ مان نہ لیتے ؟ ایک فاضل یہودی کی کتاب میرے پاس ہے وہ بڑے زور سے لکھتا ہے اور اپیل کرتا ہے کہ اگر مجھ سے یہ سوال ہوگا تو میں ملا کی نبی کی کتاب سامنے رکھ دوں گا کہ اس میں الیاس کے دوبارہ آنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔ اب غور کرو جبکہ باوجود ان عذرات کے لاکھوں یہودی جہنمی ہوئے اور سور بندر بنے تو کیا میرے مقابلہ میں یہ عذر سیح ہو گا کہ وہاں مسیح ابن مریم کا ذکر ہے ۔ یہودی تو معذور ہو سکتے تھے ۔ ان میں نظیر نہ تھی ۔ مگر اب تو کوئی عذر باقی نہیں۔ مسیح کی موت قرآن شریف سے ثابت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت اس کی تصدیق کرتی ہے اور پھر قرآن شریف اور حدیث میں منگم آیا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ نے مجھے خالی ہاتھ نہیں بھیجا ہزاروں لاکھوں نشان میری تصدیق میں ظاہر ہوئے اور اب بھی اگر کوئی چالیس دن میرے پاس رہے تو وہ نشان دیکھ لے گا۔ لیکھرام کا نشان عظیم الشان نشان ہے۔ احمق کہتے ہیں کہ میں نے قتل کرا دیا۔ اگر یہ اعتراض صحیح ہے تو پھر ایسے نشانات کا امان ہی اُٹھ جائے گا۔ کل کو کہ دیا جائے گا کہ خسرو پرویز کو معاذ اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کرا دیا ہوگا۔ ایسے اعتراض حق بین اور حق شناس لوگوں کا کام نہیں ہے۔ میں آخر میں پھر کہتا ہوں کہ میرے نشانات تھوڑے نہیں ۔ ایک لاکھ سے زیادہ انسان میرے نشانوں پر گواہ ہیں اور زندہ ہیں۔ میرے انکار میں جلدی نہ کرو۔ ورنہ مرنے کے بعد کیا جواب دو گے؟ یقیناً یا درکھو کہ خدا سر پر ہے اور وہ صادق کو صادق ٹھہراتا اور کاذب کو کاذب۔