رسالہ الوصیت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 223 of 597

رسالہ الوصیت — Page 223

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۲۱ لیکچر سیالکوٹ خیال کرتا ہے <mark>کہ</mark> میں نے بڑا ثواب کا کام کیا ہے اور جو مجھے کا ذب کا ذب <mark>کہ</mark>تا ہے وہ سمجھتا ہے <mark>کہ</mark> میں نے خدا کو خوش کر دیا۔ اے وے لوگو! جن کو صبر اور تقویٰ کی تعلیم دی گئی تھی ۔ تمہیں جلد بازی اور بدظنی کس نے سکھلائی ۔ کون سانشان ہے جو خدا نے ظاہر نہ کیا اور کون سی دلیل ہے جو خدا نے پیش نہ کی مگر تم نے قبول نہ کیا اور خدا کے حکموں کو دلیری سے ٹال دیا۔ میں اس زمانہ کے حیلہ گر لوگوں کو کس سے تشبیہ دوں۔ وہ اُس مکار سے مشابہ ہیں <mark>کہ</mark> روز روشن میں آنکھیں بند کر کے <mark>کہ</mark>تا ہے <mark>کہ</mark> سورج <mark>کہ</mark>اں ہے۔اے اپنے نفس کے دھو<mark>کہ</mark> دینے والے! اول اپنی آنکھ کھول پھر تجھے سورج دکھائی دے دے گا۔ خدا کے مرسل کو کافر <mark>کہ</mark>نا سہل ہے مگر ایمان کی باریک راہوں میں اس کی پیروی کرنا مشکل ہے۔ خدا کے فرستادہ کو دجال <mark>کہ</mark>نا بہت آسان ہے مگر (۲۵) اس کی تعلیم کے موافق تنگ دروازہ میں سے داخل ہونا یہ دشوار امر ہے۔ ہر ایک جو <mark>کہ</mark>تا ہے <mark>کہ</mark> مجھے <mark>مسیح</mark> موعود کی پرواہ نہیں ہے اُس کو ایمان کی پرواہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ حقیقی ایمان اور نجات اور کچی پاکیزگی سے لا پرواہ ہیں۔ اگر وہ ذرا انصاف سے کام <mark>لیں</mark> اور اپنے اندرونی حالات پر نظر ڈا<mark>لیں</mark> تو انہیں معلوم ہوگا <mark>کہ</mark> بغیر اس تازہ یقین کے جو خدا کے مرسلوں اور نبیوں کے ذریعہ سے <mark>آسمان</mark> سے نازل ہوتا ہے۔ اُن کی نمازیں صرف رسم اور عادت سے ہیں اور اُن کے روزے صرف فاقہ کشی ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے <mark>کہ</mark> کوئی انسان نہ تو واقعی طور پر گناہ سے نجات پاسکتا ہے اور نہ بچے طور پر خدا سے محبت کر سکتا ہے اور نہ جیسا <mark>کہ</mark> حق ہے اس سے ڈرسکتا ہے جب تک <mark>کہ</mark> اُسی کے فضل اور کرم سے اُس کی معرفت حاصل نہ ہو اور اس سے طاقت نہ ملے اور یہ بات <mark>نہایت</mark> ہی ظاہر ہے <mark>کہ</mark> ہر ایک خوف اور محبت معرفت سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں جن سے انسان دل لگاتا ہے اور اُن سے محبت کرتا ہے یا اُن سے ڈرتا ہے اور دور بھاگتا ہے۔ یہ سب حالات انسان کے دل کے اندر معرفت کے بعد ہی پیدا ہوتے ہیں۔