اَلھُدٰی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 822

اَلھُدٰی — Page 395

روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۹۱ نزول المسيح اس سلسلہ کا پرانا دشمن اور معاند ہے پس اس میں کیا شک ہے کہ اُسی عناد کی وجہ سے یہ انبار جھوٹ کا اُس (۱۳) نے اپنے اخبار میں درج کر دیا ہے۔ پھر اسی پر چہ میں وہ لکھتا ہے کہ مولا چوکیدار کی بیوی بھی طاعون سے فوت ہوگئی حالانکہ وہ اس وقت تک قادیان میں زندہ موجود ہے۔ ہر ایک شخص سوچ لے کہ اس شخص نے کیا وتیرہ اختیار کر رکھا ہے کہ زندوں کو ماررہا ہے۔ کیا ایک ایڈیٹر اخبار کی قلم سے ایسے خطر ناک جھوٹ شائع ہونا اور دلوں کو آزار پہنچانا موجب نقض امن نہیں ہے جس شخص کے اخبار کے ہر ہفتہ میں ہزار ہا پر چے شائع ہوتے ہیں قیاس کرنے کی جگہ ہے کہ وہ کس قدر خلاف واقعہ ماتم کی خبروں سے بے گناہ دلوں کو دکھ دے رہا ہے اور دنیا میں بے امنی پھیلا رہا ہے۔ ایک تو آسمان سے انسانوں پر واقعی مصیبت ہے اب دوسری مصیبت یہ پیدا ہو گئی ہے جو پیسہ اخبار کے ذریعہ سے ملک میں پھیلتی جاتی ہے نہ معلوم اس ملک کے لوگ ایسے گندے اخبار سے کیا فائدہ اُٹھاتے ہیں اور کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کیوں گورنمنٹ عالیہ اس موذی اخبار کے بند کرنے میں توقف کر رہی ہے کیونکہ ایک گندے اخبار کا بند ہونا لاکھوں دلوں کو آزار پہنچنے سے بہتر ہے۔ (۲) دوسرا طریق افترا کا جو پیسہ اخبار نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ صرف فرضی نام لکھ کر ظاہر کرتا ہے کہ یہ لوگ قادیان میں طاعون سے مرے ہیں حالانکہ ان ناموں کا کوئی انسان قادیان میں نہیں مرا۔ مثلاً وہ لکھتا ہے کہ مسمی مولا کی لڑکی طاعون سے مری ہے حالانکہ مولا مذکور کے گھر میں کوئی لڑکی پیدا ہی نہیں ہوئی۔ ایسا ہی وہ لکھتا ہے کہ ایک صدر و بافندہ طاعون سے مرا ہے حالانکہ اس گاؤں میں صدرو نام کوئی بافندہ ہی نہیں جو کہ طاعون سے مر گیا ہو۔ نہ معلوم اس کو یہ کیا سوجھی کہ فرضی طور پر نام لکھ کر ان کو طاعونی اموات میں داخل کر دیا۔ شاید اس لئے ایسا کیا گیا کہ تا کچھ پتہ نہ چل سکے اور جاہل لوگ سمجھ لیں کہ ضرور ان ناموں کے کوئی لوگ ہوں گے جو مرے ہوں گے۔ (۳) تیسرا طریق افترا کا جو پیسہ اخبار نے اختیار کیا ہے وہ یہ ہے کہ بعض آدمی فی الحقیقت مرے تو ہیں مگر وہ کسی اور حادثہ سے مرے ہیں نہ طاعون سے اور اس نے محض چالا کی اور شرارت سے طاعون کی اموات میں داخل کر دیا ہے مثلاً وہ اپنے اخبار میں بڑھا تیلی کے لڑکے کی نسبت لکھتا ہے کہ وہ طاعون سے مرا ہے