اَلھُدٰی — Page 383
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۷۹ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ يُرِيدُونَ أَنْ تُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ نزول المسيح وَاللهُ مُتِمُّ نُوْرِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ : یہ لوگ ارادہ کر رہے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں اور خدا تو باز نہیں رہے گا جب تک کہ اپنے نور کو پورا نہ کرے اگر چہ کا فرلوگ کراہت ہی کریں ہم نے طاعون کے بارے میں جو رسالہ دافِعُ البَلاء لکھا تھا اس سے یہ غرض تھی کہ تا لوگ متنبہ ہوں اور اپنے سینوں کو پاک کریں اور اپنی زبانوں اور آنکھوں اور کانوں اور ہاتھوں کو نا گفتنی اور نا دیدنی اور نا شنیدنی اور ناکردنی سے روکیں اور خدا سے خوف کریں تا خدا تعالیٰ اُن پر رحم کرے اور وہ خوفناک و با جو اُن کے مُلک میں داخل ہو گئی ہے دُور فرمادے ۔ مگر افسوس کہ شوخیاں اور بھی زیادہ ہو گئیں اور زبانیں اور بھی دراز ہوگئیں۔ اُنہوں نے ہمارے مقابل پر اپنے اشتہاروں میں کوئی بھی دقیقہ ایذا اور سب و شتم کا اُٹھا نہیں رکھا اور کسی قسم کی ایذا سے دستکش نہیں ہوئے مگر اُسی سے جس تک ہاتھ نہیں پہنچ سکا۔ لعنت اور سب وشتم میں وہ ترقی کی کہ شیعہ مذہب کے لوگوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ شیعہ نے تو اپنے خیال میں لعنت بازی کے فن کو حرف الف سے التوبة: ۳۲ ۲ الصف : ٩