اَلھُدٰی — Page 310
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۳۰۶ الهدى نفع وجودهم الشريعة الغراء بل تدثر الإسلام طالعا ذا عدواء۔ في روشن حقہ کو کچھ بھی نفع نہ پہنچا۔ بلکہ اسلام لنگڑے مریل متعدی مرض والے اونٹ پر سوار ہو کر أرض متعادية موات مرداء بما كان الملوك في سجن الأهواء۔ | ایسی زمین میں چلا جس میں نہ سبزہ ہے اور نہ پانی ہے اور سخت نا ہموار ہے اس لئے کہ بادشاہ كالمحبوس۔ وعبدة نار الشهوات كالمجوس۔ ومن كان رائعا في خواہشوں کے جیل میں بند ہیں اور مجوسیوں کی طرح خواہشوں کی آگ کے پرستار ہیں۔ اور الأجمة الشيطانية۔ ما له وللرياض الرحمانية؟ فأرى الدين في زمنهم | جو شخص شیطانی بیشوں میں چرتا چکتا ہوا سے رحمانی باغوں سے کیا سروکار ۔ میرے نزدیک اُن كمثل جسم ثارت به من الداخل حصبة ودماميل وأنواع البثرات۔ کے وقت میں دین کی مثال اس جسم کی طرح ہے جس پر اندر سے تو چیچک اور پھوڑے اور وجرحه من الخارج كثير من المدى والقنا والمرهفات۔ وأُجبى پھنسیاں نکلے ہوں اور باہر سے چھریوں اور نیزوں اور تلواروں نے اُسے زخمی کیا ہو۔ اور اس زرعه المخصب۔ وأحرق عذيقه المرجب۔ وكان في زمان کے سرسبز کھیتوں میں رڈی فلمی چیزیں اگتی ہوں ۔ اور اس کے اعلیٰ درجہ کے کھجور کے درخت جلا كحديقة ترتع النواظر في نـواضــرهـا۔ ويصقل الخواطر دیئے گئے ہوں۔ اور کبھی وہ ایسا باغ تھا کہ آنکھیں اس کے سرسبز نو نہالوں کو دیکھ دیکھ خوش بشيم مواطرها۔ وأما اليوم فهو كشجرة اتخذت الخفافيش ہوتیں۔ اور اس کے ابر و باراں کو دیکھ کر دلوں کو جلا اور تازگی ملتی تھی۔ لیکن وہی آج اُس درخت کی مانند أو كارها في أظلالها۔ وكعين ما بقيت قطرة من زلالها واشمعلت ہے جس کے سایہ میں چمگادڑوں نے گھونسلے بنائے ہیں اور اس چشمہ کی مانند ہے جس کے خوشگوار للرحل كل شوكة وبركة كانت في هذا الدين۔ وما بقى پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں رہا۔ اور اس دین کی ہر شوکت اور برکت کوچ پر آمادہ ہورہی ہے۔