اَلھُدٰی — Page 300
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۹۶ الهدى ہو ويموتون۔ وأنتم تعيشون معهم في رخاء وتغترفون من جنہیں کھا کر وہ ہلاک ہو جائیں۔ تم ان کے وجود کے طفیل بڑے مزے میں گزران کرتے اور (۵۲) افضالتهم فان مسهم ضرّ فكيف تُعصمون، وإنهم ملكوا ان کے بچے کھچے کھاتے ہو۔ سواگر انہیں ضرر پہنچا تو تمہارا ٹھکانہ کہاں۔ اور وہ تمہاری رقابكم وأعراضكم وأمـو الـكـم فانصحوا للذين يملكون۔ وقد گردنوں اور عزتوں اور مالوں کے مالک ہیں سواپنے مالکوں کی کچی خیر خواہی کرو۔ خدا نے جعلهـم الـلـه لـكـم كـمعـدات۔ وجعلكم لهم كآلات فتعاونوا | انہیں تمہارے حق میں ساز وسامان اور تمہیں ان کے آلات بنایا ہے۔سواگر مخلص : على البر والتقوى ان كنتم تخلصون ونبهوهم على تو تقویٰ اور نیکی پر ایک دوسرے کے مددگار بن جاؤ۔ اور انہیں ان کی بد کردار یوں سيئاتهم واعثروهم على هفواتهم إن كنتم لا تنافقون۔ پر آگاہ کرو اور لغویات پر انہیں اطلاع دو اگر تم منافق نہیں۔ واللہ وہ اپنی رعیت کے حقوق ادا ووالله إنهم قوم لا يؤدّون حقوق عباد أمروا عليهم ولا نہیں کرتے ۔ اور فرائض کی پوری خبر گیری بجا نہیں لاتے۔ تم پہچان لو گے اس بات کو اُن کا منہ يُحافظون الفرائض ولا يتعهدون۔ وتعرفونه بوجه أكسف دیکھ کر جو اُن کے دل سے بھی زیادہ بھونڈا اور لباس سے جوان کے حال سے زیادہ وحشت من بالهم وزيّ أو حش من حالهم كأن بواطنهم مسخت و انگیز ہے گویا ان کے باطن مسخ ہو گئے ہیں اور گویا انہوں نے کسی كأنهم أنشئوا فى ما لا يعلمون وتالله إنا نرى أن قلوبهم قاسية اوپرے عالم میں پرورش پائی ہے۔ قسم بخدا ان کے دل پہاڑوں کے پتھروں سے بھی زیادہ بل أشد قسوة من أحجار الجبال ۔ وإن طبائعهم متوقدة ولا كالنمور سخت ہیں۔ اور ان کی طبیعتیں سانپوں اور چیتوں سے بھی زیادہ افروختہ ہیں