اَلھُدٰی — Page 274
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۷۰ الهدى وإن قلوبهم منتشرة كانتشار الجراد وإن السنهم على النجاد۔ یہ ہو کیونکر سکتا ہے اس لئے کہ اہل دنیا کے دل ٹڈیوں کی طرح پراگندہ ہوتے ہیں۔ ان کی وأرواحهم في الوهاد يقولون إنا نحن من العرب۔ وغُدينا من أمهاتنا زبا نہیں تو بیشک اونچی زمین پر ہوتی ہیں پر روھیں گڑھوں میں ۔ کہتے ہیں ہم عرب ہیں اور ہمیں در الأدب۔ وإنّا فى مُلْكِ النطق كاقيال۔ وأبناء أقوال۔ فقد ہماری ماؤں نے ادب کا دودھ پلایا ہے اور ہم گویائی کے ملک کے سردار ہیں اور پسران استكبروا بنفوسهم الأبيّة۔ وألسنتهم العربيّة۔ وأوطنوا أنفسهم امنع | گفتار ہیں۔ سو یہ لوگ سرکش نفسوں سے گردنیں اکڑا ر ہے ہیں ۔ اور اپنے تئیں بڑی مضبوط جناب وزعموا أنهم يفلّون حدّ كل ناب۔ وما عرفوا من غباوة بارگاہ میں جگہ دیتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ ہر ایک عظیم الشان آدمی کو ہرا سکتے ہیں اور نادانی الجنان أن أولياء الرحمان يُعطون ما لا يُعطى لأهل اللسان من کی وجہ سے نہیں سمجھ سکتے کہ خدا کے دوستوں کو وہ حسن بیان اور معارف دیئے جاتے ہیں جو المعارف وحسن البيان۔ ولا يُدرك براعتهم غيرهم مع جهدٍ مُعنتٍ | اہلِ زبان کو نہیں ملتے۔ اور دوسرے لوگ خواہ کتنی ہی زحمت اٹھائیں اور وقت خرچ کریں ان وصرف الزمان، وأنّى لهم نصيب من هذا الشان۔ ولو أوتوا کے کمال کو پا نہیں سکتے اور سحبان کی بلاغت بھی انہیں مل جائے جب بھی انہیں اس شان سے ۲ بلاغة سحبان۔ فإنهم ما صقلوا مرآة الإيمان۔ وما ذاقوا طعم کہاں حصہ مل سکتا ہے۔ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے آئینہ کو تو بھی جلا دی ہی نہیں ۔ اور العرفان۔ ثم جـمـعـوا بين الحمق والحرمان۔ وما عرفان کا مزا کبھی چکھا ہی نہیں۔ پھر اس کے علاوہ حماقت اور محرومی دوباتیں استطاعوا أن يرجعوا إلى الرحمن۔ بل صار شغل جرائدهم ان کے حصہ میں آئی ہیں اور وہ خدا کی طرف رجوع نہیں کر سکتے بلکہ اخبار نویسی کا شغل ان کی