اَلھُدٰی — Page 272
روحانی خزائن جلد ۱۸ ۲۶۸ الهدى بالاطراء ۔ والأخرى بالازدراء ۔ لينثالوا على أنفسهم الدراهم دانشمند ہیں اور کبھی جھوٹی تعریفوں سے روزی کما کھاتے ہیں اور کبھی کسی کی ہجو اور ذم سے ۔ اس (۲۳) وليتــخــلــصــوا من اللأواء ۔ فلا شك أن لسنهم من الولاية لئے کہ اپنے لئے روپیہ جمع کر لیں اور مصیبتوں سے چھوٹ جائیں۔ سو اس میں شک نہیں کہ الشيطانية۔ لا من الكرامة الربانية۔ ومن حِيَل الاقتناء والاحتياز۔ ان کی زبانیں شیطانی ولایت سے ہیں اور ربانی کرامت سے نہیں اور مال اور روپیہ جمع کرنے لا من بدائع الإعجاز۔ وإن بلاغتى شيء يُجلي به صداء کے حیلے بہانے ہیں عجیب اعجاز کی قسم سے نہیں۔ اور میری بلاغت وہ شے ہے کہ ذہنوں کے الأذهان۔ ويجلى مطلع الحق بنور البرهان۔ وما أنطق إلا زنگ اس سے دور ہوئے ہیں اور حق کے مطلع کو نور برہان سے روشن کرتی ہے اور میں رحمان بإنطاق الرحمان ۔ فكيف يقوم حذتى من قيّد لحظه بالدنيا و کے بلائے بولتا ہوں ۔ پس کیونکر میرے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے جس کی نگہ دنیا تک محدود ہے اور مال إليها كل الميلان۔ ورضي بزينتها كالنسوان ۔ أم يزعمون بالمقابل اس کی طرف جھک پڑا ہے اور عورتوں کی طرح اس کی زینت پر راضی ہو گیا ہے۔ کیا وہ دعوی کرتے أنهم من أهل اللسان سيهزمون ويــولــون الدبر عن الميدان ۔ ہیں کہ وہ اہلِ زبان ہیں۔ عنقریب شکست کھائیں گے اور میدان سے دُم دبا کر بھاگیں گے۔ ان کی مثال ومثلهم كمثل طالع پرید لیدرک شأو الضليع فلا يمشى اس لنگڑی اونٹنی کی سی ہے جو پورے مضبوط گھوڑے کی غایت کو پالینا چاہتی ہے سو ایک ہی قدم چل کر گردن إلا قدمًا ويسقط على الدسيع۔ أو كرجل راجل وحيد يسرى کے بل گر پڑتی ہے یا اس تنہا پیادہ کی سی ہے جو چلتا ہے ایسی رات میں جس کے گیسو سفید ہو فى ليلةٍ شابت ذوائبها وانتابت شوائبها ۔ واشتدّ ظلامها۔ رہے ہیں اور اس کی آفتیں پے در پے آ رہی ہیں اور اس کا اندھیرا سخت ہو رہا ہے ۔